ملا ازم ملائیت اور قدامت پسند طعنے کا مؤجد کون ؟ – عطاء الرحمن روغانی

زیادہ پرانی بات نہیں صرف نصف صدی قبل منکر حدیث غلام احمد پرویز نے جب جدید اسلام کی بنیاد ڈالنے کی کوشش کی، تو فکر قرآن کے نام اس فتنے کے سامنے دو چیزیں مزاحمت کر رہی تھی ،پہلی چیز رسول اللہ کی سنت و حدیث تھی اور دوسری چیز علمائ اسلام کے چودہ سوسال کا موقف اور اجماع تھا۔

لہٰذا سنت کو سامنے سے ہٹانے کے لئے جو تدبیر اور ٹیکنیک سوچی وہ اپنائی گئی، وہ دو حربوں پر مشتمل ہیں۔

٭سنت کی ڈائریکٹ انکار کی بجائے حجیت حدیث کا انکار

٭ سنت و حدیث کو مشکوک و مشتبہ ٹہرانا

سنت کی حجیت کو تسلیم نہ کرنے کے لئے نام نہاد اہل قرآن معروف بہ منکرین حدیث نے یہ تصور تراشا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال ایک قاصد اور ڈاک پہنچانے کی ہے ؛ لہذا ان کا رسول ہونا اور ہمارے لئے حجت ہونا صرف ان کا لایا گیا قرآن ہے، باقی حضور کی ہجرت،جہاد، کمانڈر انچیف،جرنیل، سربراہ مملکت، چیف جسٹس کی حیثیت نیز ساری نجی و اجتماعی افعال و اقوال ہمارے لئے حجت نہیں، کیونکہ قرآن کے مبلغ ہونے کے علاوہ نبی کریم کی حیثیت رسول اللہ کی نہیں ہے بلکہ محمد بن عبداللہ کی ہے جو کہ ایک عام شخص تھا ۔

اب سنت کو مشکوک بنانے کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا اس کے دو جزء ہیں۔

(الف) استشراقی حربے کو استعمال کیا گیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیث رسول کو نقل کرنے میں غلطیاں ہوئی ہے، اکثر احادیث موضوع و من گھڑت ہے ؛ تاکہ لوگوں کی ذہنوں میں یہ بات بیٹھ جائیں کہ واقعی قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز قابل عمل ہی نہیں،کیونکہ ان کے ذرائع ابلاغ قابلِ اعتماد نہیں ہے ۔

(ب) اس حربے کا دوسرا جزئ یہ تھا کہ احادیث کا ذخیرہ اس طرح کھنگالا جائے، کہ اس میں عیوب نکالے جائیں اور پھر ڈھنڈورا پھیٹا جائے ،آہ و گریہ شروع کیا جائےâ جس طرح آج کل غامدی کا شاگرد قاری حنیف ڈار کررہے ہیں áکہ یہ دیکھو احادیث کی حالت؛ کیا رسول اللہ کی احادیث ایسی ہوسکتی ہے ؟ یہ تو عقل و بصیرت کے کسی کسوٹی پر پوری نہیں اترتی، عقل سلیم یہ تسلیم ہی نہیں کرتا کہ نبی کریم جیسے اعلی ہستی کی طرف ایسی باتیں منسوب کی جائے اور پھر مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ یہ کیسی احادیث ہیں کہ جو اسلام کے لئے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں؟

یہ بعینہ وہی حربہ ہے جو آریہ سماجیوں اور عیسائی مشنریوں نے قرآن کو غلط ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا تھا،جب وہ ان منکرین حدیث کی طرح اسلام کے لبادے میں قرآن پر اعتراضات کرتے تھے ۔

اب آتے ہیں اپنی موضوع کی طرف! چونکہ منکرین حدیث کے ان حربوں کو خاک میں ملانے کے لئے جو سد سکندری جیسی مضبوط دیوار تھی وہ علماء کرام کی جماعت تھی، جو قرآن و حدیث کو سلف صالحین کے منہج کے مطابق سمجھنے کے قائل تھے، جن کے نزدیک قرآن، حدیث اور اجماع تینوں پر عمل فرض ہے اور اس کا خلاف حرام و ناجائز ہے۔
لٰہذا علماء کرام کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا گیا کہ یہ قدامت پسند ہے، یہ طبقہ مذہب کے نام جو کچھ پیش کررہا ہے وہ اس قابل ہی نہیں کہ جدید دنیا کے معاشی اور سیاسی امور سے نمٹ سکے ،اور جو عقل و بصیرت کی کسوٹی پر پورا اتر سکے ۔چونکہ نام نہاد متجددین کا جدید اسلام جس عقل اور بصیرت کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے اور جو عقل و فکر کے جن تقاضوں کو پورا کرتے ہیں اس کا تعلق اسلام کی بجائے مغربی غالب تہذیب سے ہے ،اس لئے ایسا موم کی ناک والا اسلام چاہئے جو مغربی غالب و فاتح تہذیب کو قابل قبول ہو، جس کے معاشرتی اجزائ فرنگی کی ننگی و برہنہ تمدن سے ہو اور معاشی و اقتصادی اجزائ مارکسزم و اشتراکیت کی خونخوار فلسفہ سے ماخوذ ہو۔

اس مقصد کے حصول میں یقینی طور پر سب سے بڑی رکاوٹ علمائ کرام تھے، لہذا اپنے ہدف کی حصول کے لئے اس قریبی اور پہلی رکاوٹ کو ہٹانا ضروری سمجھا گیا، یہ رکاوٹ ہٹانا آسان نہ تھا، لہذا علماء کرام کی قدر و منزلت کو مسلمانوں کے دل و دماغ میں گھٹانے کا پلان بنایا گیا،اس مقصد کے لئے تھیوکریسی،مذہبی پیشوائیت اور پریسٹ ہڈ جیسی اصطلاحات کو نصرانیت ،یہودیت اور ہندوؤں سے لیکر اس کا ترجمہ ملائیت ،ملا ازم اور مذہبی ٹھیکدار جیسے الفاظ سے کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ علمائ سلف و خلف،قدیم و جدید سب کی تحقیر و تذلیل غلام احمد پرویز اور دیگر منکرین حدیث ومتجددین کا مستقل وظیفہ اور شغل رہا ہے۔

وجہ یہ تھی کہ علماء کرام ہی ان منکرین حدیث و متجددین کے مغربی تہذیب و تمدن اور اشتراکی اجزاء سے مرکب دین کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ تھے اور اب بھی ہیں۔لہذا دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے علمائ کرام کے خلاف ہر تحقیر آمیز و تضحیک آمیز رویہ ان کا شیوہ رہا ہے، دنیا بھر کی برائیوں کو لفظ ملا و مولوی میں سمیٹ کر اسے علمائ کرام کی طرف منسوب کرنا ان متجددین اور منکرین حدیث کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔یہ نام نہاد متجددین و منکرین حدیث اپنے لٹریچرز میں یہی رونا روتے ہیں کہ یہ قدامت پسند قرآنی تحریک کے مخالف ہیں،حالانہ علمائ کرام قرآن کے مخالف کیسے ہوسکتے ہیں؟ علماء کرام تو قرآنی فکر کے نام اس لادینیت کے مخالف ہیں،جو مغرب کے ننگے تڑنگے معاشرت سے ماخوذ ہے، جس پر قرآنی فکر و معاشرے کا خوبصورت لیبل لگا کر یہ متجددین و منکرین حدیث مسلمانوں میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ نام نہاد متجددین یہ بھی کہتے ہیں کہ مولوی قرآن و حدیث کے نام چودہ سو سالہ پرانا فرسودہ وہ دین پیش کررہے ہیں کہ جس میں جدید دنیا کے معاشی، سیاسی اور تمدنی مسائل کا حل ہی نہیں ہے ۔

اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہے تو اپنے احباب کے ساتھ بھی شئیر کریں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں