امیدِسحرـ صائمہ سلیم ملائیشیا سے

*امیدسحر*
صائمہ سلیم (ملائیشیا)

جدھر کو نظر دوڑائیے ،ہرطرف امت بدحال نظر آتی ہے ۔ کسی خوشی کی خبر سننے کو کان ترس کے رہ گئے ہیں۔۔ اک عالم بےبسی وبےحسی ہے ۔۔ ایک طبقہ بدحال ہے، تو دوسرا طبقہ اپنی موج مستی میں گم ،خوشی سے سرشار و نہال ہے ۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے مسلمان بھائیوں پر کیا بیت رہی ہے ۔۔

ایک امت ہونے کا نظریہ مفقود ہوتا جارہا ہے ۔ اس پر مستزادیہ کہ ایسے دانشوروں کی ایک فوج ظفر موج نظر آتی ہے ، جو عوام الناس کو تھپکی دے کر سلا رہی ہے کہ یہ ہمارا تمہارا مسئلہ نہیں ، کھاو پیو ،عیش کرو ، اپنی فکر کرو ۔

عوام کو گمراہ کرنا ، مایوسی پھیلانا ان کا خاصہ ہے ۔۔ ایک انسان سمجھ کر بھی مظلوموں پر رحم کھانے کو تیار نہیں ۔
آج امت کو گوناگوں مسائل اور چیلنجز درپیش ہیں ۔۔ کھلے دشمن ( کفّار ) کے ساتھ ساتھ ، ایسے ناعاقبت اندیشوں سے بھی نبرد آزما ہیں، جو اہل ایمان کی صف میں کالی بھیڑ یں اور آستین کے سانپ بن کر ، باطل کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ یہ وہ گروہ ہے ، جس نے باطل کے ہدف کو آسان تر بنادیا ہے ۔۔ طاغوت کی کامیابی میں اس گروہ کا بڑا عمل دخل ہے ۔

کلمہ گو ہونا عصر حاضر کا جرم عظیم ٹہرا ۔۔ آج اہل ایمان بڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں ۔۔ حلب ہو یا اراکان یا کشمیر ، آج ہر طرف باطل کے شکنجے میں مسلمان تڑپ رہے ہیں ۔ ایسے میں بے اختیار دل سے صدا بلند ہوتی ہے …یا رب محمد ..!! انصر امت محمّد …!!

کوئی خطہ ایسا نہیں بچا ،جو کفار کی سازشوں سے محفوظ ہو۔۔فتنوں کا ایک جال ہے ، جو چاروں طرف سے گھیرا تنگ کر رہی ہے ۔۔ بظاہر حالات ناموافق کیوں نہ ہو ، مگر مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔۔ بقول اقبال :

جہاں میں اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے، ادھر ڈوبے ادھر نکلے

اللہ پاک ہمیں تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں : لا تقنطوا من رحمة اللہ ….! اللہ کی رحمت سے ہرگز مایوس نہ ہونا …!! ہر گز مایوس نہ ہونا …!! ظلم کی طویل رات ختم ہونے کو ہے ۔ عروج و زوال ، فتح و شکست تو قانون فطرت ہے ۔ آخری فتح اہل ایمان کا مقدر ٹہرے گی ۔ یہ دین غالب ہونے کیلئے آیا ہے ۔۔غالب آکر رہے گا انشاءاللہ ۔۔ کفار کی چال انہی پر پلٹ دی جائے گی ، کیونکہ فرمان ربی ہے .ومکروا ومکراللہ واللہ خیر الماکرین ….

زمانہ منقلب ہے ، انقلاب آیاہی کرتے ہیں
اندھیرے رات میں کچھ دیر کو چھایا ہی کرتے ہیں

اہل ایمان کیلئے ہر حال میں بشارت ہی بشارت ہے ۔۔ گو کہ آج خون مسلم ارزاں ہوچکا ، مگر نوید ہو کہ تمام شہدائے حق جنت کے راہی اور ابدی راحتوں کے حق دار بن چکے ۔۔ رب کعبہ کی قسم ! وہ تو کامیاب ہوگئے ۔ اس پرفتن دور میں ایمان کی سلامتی کے ساتھ جو رب کے حضور حاضر ہوگیا ، بھلا اس سے بڑھ کر کامیاب کون ہوسکتا ہے ۔

در اصل یہ آزمائش تو ہماری ہے ۔۔ ہمیں اپنے فکر و عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم کس کیمپ میں کھڑے ہیں ..؟ ہم بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اپنی صلاحیتوں سے کس کو فائدہ پہنچارہے ہیں ….؟ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں حق کا اتباع کرنے والا بنائے ۔

شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہ توحید سے

صائمہ تسمیر

ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس میں ڈپلومہ کے ساتھ ساتھ عالمہ کا کورس بھی کیا ہے صحافت بھی سیکھ رکھی ہے ملائشاء میں مقیم ہیں

اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہے تو اپنے احباب کے ساتھ بھی شئیر کریں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں