دعوت وتبلیغ کا نبوی طریق کار- ناصرمندوخیل

دعوت و تبلیغ کا نبوی طریق کار
ناصرمندوخیل

دعوت کی کامیابی میں اہم کردار داعی کا ہوتا ہے, داعی جس قدر تربیت یافتہ اور انسانی نفسیات کا عالم ہوگا اس قدر اس کی دعوت قابل قدر ہوگی_ داعی کو جس قدر اپنا اسلوب سلجھانے کی ضرورت ہےاس قدر مخاطب کے میلانات و رجحانات, علاقائی و خاندانی پس منظر اورذہنی استعداد سمجھنے کی ضرورت ہے_ داعی کی دعوت ایک ان پڑھ شخص کے مقابلے میں ایک پڑھے لکھے شخص سے مختلف ہونی چاہیے_
دعوت کے بارے میں قرآنی اصول کیا ہیں؟ اس بارے میں مولانا ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں: “قرآن کریم نے دعوت و تبلیغ کے کیا اصول بتائیے ہیں؟ وہ کیا ضابطے ہیں جن کی پابندی کرنے کا قرآن نےحکم دیا ہے؟ کیا قرآن کریم میں ہمیں دعوت و تبلیغ کے متعین قوانین اور اس کے بے لچک حدود بتائے گئے ہیں؟ میرا خیال ہے دعوت و تبلیغ کے طریق کار کو قانون وضابطے کی زبان میں نہیں بیان کیا گیا ہے اور نہ ایسا کرنا قرین مصلحت اور مقتضائےحکمت تھا_ دعوت و تبلیغ کا انداز ماحول, گرد و پیش کےحالات, مخاطبین کے طبائع اور دین کے مصالح کے مطابق متعین ہوتا ہے_ چونکہ دعوت کوصورت حال کا سامنا کرنا ہوتا ہے اورصورت حال ہمیشہ بدلتی رہتی ہے, اس لیے دعوت کے کام میں حاضر کلامی اورحاضر دماغی دونوں کی ضرورت ہے, کیونکہ ہر بدلتے ہوے معاشرے اور تبدیل شدہ صورت حال سے اس کو نمٹنا ہوتا ہے_” (تبلیغ و دعوت کا معجزانہ اسلوب ص 19)
قرآن کریم کے اشارات و واقعات اورحضور اکرم ص کے اقوال و افعال سے ہمیں اس بارے میں کچھ آفاقی اصول ملتے ہیں جن میں حکمت و موعظت, عملی نمونہ, قول لین, سازگار ماحول, ترغیب و ترہیب, مخاطب کے مقام و مرتبہ اورذہنی استعداد کا لحاظ, خطاب میں اختصار, جبر و اکراہ سے اجتناب, قربانی و جاں نثاری, صبر واستقلال, یسروا و لا تعسروا کا اصول, اور استقامت و استغفار شامل ہے_
حضور اکرم ص کا اسلوب دعوت کیا تھا؟ بحثیت داعی آپ کا طریقہ یہ تھا کہ دوسروں کو وعظ و نصیحت تھوڑا کرتے تھے جس قدر اس پر وہ خود عمل کرتے_ حضور اکرم ص بذات خود قرآن کے عملی نمونہ اور تفسیر تھے _

وہ بجلی کا کڑکا تھا یاصوت ہادی
عرب کی زمین جس نے ساری ہلادی

حضور اکرم ص کا اخلاص کتنا تھا؟ حضور ص اگر کہیں دنیائے انسانیت کو کفر و شرک اور فسق و فجور میں رنگین دیکھتے تو بہت مضطرب ہو جاتے, یہی وجہ ہے کہ حکم ربانی ہے:”لست عليهم بمصيطر إلا من تولى وكفر فيعذبه الله العذاب الأكبر”(آپ کو ان پر زبردستی کرنے کے لیے مسلط نہیں کیا گیا ہے, ہاں مگر جو کوئی منہ موڑے گا اور کفر اختیار کرے گا تو اللہ اس کو بڑا زبردست عذاب دے گا)

سلام ان پر جوغم میں قوم کے راتوں کو روتے تھے
درود ان پر جو روتوں کو ہنسانے کے لیےآئے

کیا دعوت ہے؟ کس بات کی تبلیغ کرنی ہے؟ کس حد تک کرنی ہے؟ اس بارے میں رسول اللہ ص کوحکم ہے:”ياايها الرسول بلغ ما انزل إليك من ربك” (اے رسول جو کچھ بھی آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہنچا دیجیئے)

تیری صورت تیری سیرت زمانے میں نرالی ہے
تیری ہر ادا پیاری دلیل بے مثالی ہے

صحابہ کرام رض کا اسلوب دعوت کیا تھا ؟ صحابہ کرام چونکہ حضور ص کے براہ راست شاگرد اور مخاطین تھے اس لیےصحابہ کرام کے دعوتی کردار میں بھی ان اصولوں کاغلبہ نظر آتا ہے_

خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر کرم تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا

دعوت کے اختتامی اصول کیا ہیں؟ دعوتی مہم اور تبلیغی سعی میں چونکہ بہت احتیاط سے کام کرنا ہوتا ہے, اور ایک انسان بحثیت بشر ہونے کے اس سارے عمل میں کسی بھی غلطی کا شکار ہوسکتا ہے, اس لیے داعی کو چاہیے کہآخر میں استغفار کریں حتی کہ حضور اکرم ص کو بھی یہ حکم ہوا:”فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان توابا” (تو اپنے پروردگار کےحمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت مانگو یقین جانو وہ بہت معاف کرنے والا ہے)
اب چند اصول عصرحاضر کے تناظر میں ملاحظہ فرمائیے_ مسلمان حضور ص کے وارث ہیں_ حضوراکرم ص نے اپنے مشن کو یہاں موقوف نہیں کیا, بلکہ فرمایا:”بلغوا عنى ولو آيه” (میرا پیغام پہنچاؤ اگرچہ وہ ایک آیت ہو) حضور اکرم ص نے ایک دنخطبہ دیا اور اس میں کچھ مسلمانوں کی تعریف کی پھر فرمایا:” ایسا کیوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اپنے پڑوسیوں میں دین کی سمجھ بوجھ پیدا نہیں کرتے؟ اور انہیں دین نہیں سکھاتے؟ اور انہیں دین سے ناواقف رہنے کی عبرتناک نتائج نہیں بتاتے؟ اور انہیں برے کاموں سے نہیں روکتے؟ اللہ کی قسم! لوگ لازما اپنے پڑوسیوں کو دین کی تعلیم کی دعوت دیں, اور ان کے اندر دین کی سمجھ بوجھ پیدا کریں, اور انہیں نصیحت کریں, ان کو اچھی باتیں بتائیں اور بری باتوں سے روکیں, نیز لوگوں کو چاہیے کہ لازما اپنے پڑوسیوں سے دین سیکھے, دین کی سمجھ پیدا کریں اور ان کی نصیحتوں کو قبول کریں(طبرانی, معارف الحدیث)
مومن جو فدا نقش قدم پاک نبی ہو
ہو زیر قدم آج بھی عالم کاخزینہ

گر سنت نبوی کی کرے پیروی امت
طوفان سے نکل جائے گا ان کا سفینہ

ہمیں بھی چاہیۓ کہ ہم اپنی اصلاح کی فکر کریں, اپنے اہل و عیال اور ماتحتوں کی اصلاح کی فکر کریں, دوسروں کی نصیحتوں کو قبول کریں اورحضور اکرم ص کے امتی ہونے کے ناطے دین کا پیغام دوسروں تک پہنچائیں اور ان کی اصلاح کی فکر کریں_

کچھ اسوہ حسنہ پہ عمل بھی تو کر اے دل! یہ فرض محبت ہے اسے بھی تو ادا کر

توصیف کا حق کیا ہو ادا تیری زبان سے
بس ورد زبان صل علی کر صلی علی کر

اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہے تو اپنے احباب کے ساتھ بھی شئیر کریں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں