“سلمان حیدر” کی نظم میں ایسا کیا تھا! آپ بھی جانئیے

میں بھی کافر تُو بھی کافر
پھولوں کی خوشبو بھی کافر
لفظوں کا جادُو بھی کافر
یہ بھی کافر وہ بھی کافر
فیض بھی اور منٹو بھی کافر
نُور جہاں کا گانا کافر
مکدونلدز کا کھانا کافر
برگر کافر کوک بھی کافر
ہنسنا بدعت جوک بھی کافر
طبلہ کافر ڈھول بھی کافر
پیار بھرے دو بول بھی کافر
سُر بھی کافر تال بھی کافر
بھنگڑا، تن، دھمال بھی کافر
دھادرا،ٹھمری،بھیرویں کافر
کافی اور خیال بھی کافر
وارث شاہ کی ہیر بھی کافر
چاہت کی زنجیر بھی کافر
زِندہ مُردہ پیر بھی کافر
نذر نیاز کی کھیر بھی کافر
بیٹے کا بستہ بھی کافر
بیٹی کی گُڑیا بھی کافر
ہنسنا رونا کُفر کا سودا
غم کافر خوشیاں بھی کافر
جینز بھی اور گٹار بھی کافر
ٹخنوں سے نیچے باندھو تو
اپنی یہ شلوار بھی کافر
فن بھی اور فنکار بھی کافر
جو میری دھمکی نہ چھاپیں
وہ سارے اخبار بھی کافر
یونیورسٹی کے اندر کافر
ڈارون بھائی کا بندر کافر
فرائڈ پڑھانے والے کافر
مارکس کے سب متوالے کافر
میلے ٹھیلے کُفر کا دھندہ
گانے باجے سارے پھندہ
مندر میں تو بُت ہوتا ہے
مسجد کا بھی حال بُرا ہے
کُچھ مسجد کے باہر کافر
کُچھ مسجد کے اندر کافر
مُسلم مُلک میں اکثر کافر
کافر کافر میں بھی کافر
کافر کافر تُو بھی کافر۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

“سلمان حیدر” کی نظم میں ایسا کیا تھا! آپ بھی جانئیے” ایک تبصرہ

  1. چلیں کافر سے کافر کی ملاقات ہوگئی، پھر بھی انتہا پسند فساد ضرور برپا کریں گے،، 😂😂

اپنا تبصرہ بھیجیں