اگر آپ صحافت کے طالب علم ہیں

ماس کمیونیکیشن میں ایم اے/بی اے کررہے ہیں تو آپ ڈگری لینے سے پہلے کُچھ اہم ضروری کام سرانجام دیں۔ یہ کام آپ کو ڈگری لینے سے پہلے نصف صحافی بنادیں گی۔آپ سب سے پہلے مُطالعہ کی عادت ڈالیں۔آپ اخبارات چانٹی کریں۔آپ فارغ اُوقات میں یونیورسٹی کی لائبریری میں کتابیں پڑھنا شروع کردیں۔ یہ کتاب ہیری پورٹر کی فلم پر مبنی بھی ہوسکتی ہے اور بل گیٹس کی کامیابی پر۔

اس کے بعد آپ یونیورسٹی کے اساتذہ اور ادارے کے سینئیر طلباء سے بھی ٹچ میں رہیں۔ انہیں اپنا انٹرسٹ بتائیں اور ان سے ٹپس لیتے رہیں۔اسی طرح آپ جنونی ہوتے رہیں گے اور آہستہ آہستہ آپ ایک اخباری/چینل ادارے تک پہنچنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ آپ انٹرنشپ کریں۔آپ مُعاوضہ کی بات نہ کریں آپ کو فری میں کسی کا چوٹا بننا پڑے گا۔ اگر آپ پیسوں کی تلاش میں ہے تو پہلے آپ کو دھکہ خُواری کرنا پڑے گی۔

آپ اپنے علاقے کے سماجی ورکرز سے ملیں سوشل کاموں میں ایکٹیو رہے۔علاقے کے ناظم ایس ایچ اُو سے ملیں اور انہیں علاقے کے مسائل حل کرنے کی تجاویزات پیش کریں۔ یہ چیزیں آپ کو ڈگری لینے سے پہلے آدھا صحافی بنادیں گے۔ میں آپ سے اپنے کچھ تجرُبات شیئر کرتا ہوں لکھتاہوں آپ مزید پڑھتے رہیئے۔

میرا سب سے پہلا انٹرویو جیو ٹی وی کراچی آفس میں ہوا۔ مجھ سے مُخاطب “ایک دن جیو کے ساتھ”سُہیل وڑائچ اور بیورو چیف “فہیم صدیقی” تھے۔ یہ لوکل باڈی الیکشن کمپین کی عارضی پوسٹوں کی ہائرنگ تھی۔ صدیقی صاحب نے مجھ سے ایک عجیب سُوال پوچھا بیٹا کیا آپ مُھاجروں کے علاقے میں جا کر رپورٹنگ کرسکتے ہیں؟

ہاہاہاہا۔ سر اگر نائن ایم ایم پستول کی گولی بھی کہانی پڑے تو اپنی ڈیوٹی بخوبی انجام دوں گا اور اسی بات پر میرے فارم پر دستخط کرکے مجھے جیو ٹی وی کے ساتھ پانچ دن کام کرنے کا موقع حاصل ہوا۔

اسی طرح ایک دن پریس کلب کے اندر مبشر علی زیدی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ جیو ٹی وی کے آؤٹ پٹ کنٹرولر ہیں۔ انہوں نے کہا آپ کتابیں پڑھیں،ڈائیری لکھیں ،اردو ادب کو پڑھیں یہ چیزیں آپ کو فائدہ پہنچائیں گی۔آپ فیس بک سوشل میڈیا پر ان شخصیات کو دوست بنائیں ان کی تحاریریں پڑھئیے اور خود لکھنا شروع کریں یہ آپ کا انٹرسٹ بڑھائیں گی۔

جیو نیوز کے معروف اینکر “محمد جنید”سے کراچی آرٹ کونسل وجیہ ثانی کی کتاب “محبت راستے میں ہے” کی نمائش میں ملاقات ہوئی۔ صاحب میرے قریب آئے فرمایا سوری کیسے ہیں آپ؟ میں نے بہت ادب اور محبت سے ملنے کی کوشش کی۔ میں نے پوچھا سر اینکر کیسے بنا جاتا ہے؟ فرمایا محنت کریں یہ محنت آپ کو نیوز اسٹوڈیو تک پہنچائیں گی۔آپ نیوز سنیں شیشے کے سامنے پریکٹس کریں۔ آواز ریکارڈ کریں۔ “ایکسنٹ” کو نیوز سینس میں لائیں۔الفاظوں کی ادائیگی سیکھیں۔ یہ چیزیں آپ کو نیوز اینکر بنادیں گی۔

اسی طرح ایک دن ٹھیلتے ٹھیلتے صدر ٹاؤن زینب مارکیٹ کے قریب پہنچا وہاں نظر سیلانی پر پڑی۔ ارے یہ وہی سیلانی ہے جو ایک دہائی سے “امت” کے اندر ایک جاندار قالم “سیلانی کے قلم سے”لکھ رہیں ہے۔اپنا نام احسان کوہاٹی بتاتے ہیں نیو ٹی وی کے رپورٹر بھی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا فرمانے لگے اگر آپ مظبوط صحافی بننا چاہتے ہیں اخبار جوائن کریں خبر بنانا سیکھیں خبر کا سینس سمجھیں۔ پھر آپ بھی کالم لکھ سکتےہیں۔

تو سنو دوستوں یہ کچھ تجربات تھے آپ سے شیئر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ بھی محنت کریں اور میں بھی کرتا ہوں تاکہ ہم نوجوان اچھے صحافی بن کر صحافتی ذمہ داریاں سنبھال کر ملک اور معاشرے کی خدمت کرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں