sadiq abbas صادق عباس https://www.facebook.com/sadiqabbas0321

کھوجی. صادق عباس

میری پریشانی عروج پر تھی …میں قطعا ماننے کیلیے تیارنہ تھا مگر گاؤں کے کم وبیش ١٠ آدمیوں کوجھٹلانا بھی آسان نہ تھا….. وہ سب متفق تھےکہ یہی کھر یعنی گاۓ کا پاؤں تمہاری دادی کی گاۓ کاہے …میں پڑھا لکھا وہ گاؤں کے اجڈ گنوار ..یہی سوچتے ہوۓ عرض کیا….یار اس جگہ سے ١٥ کلو میٹر دورہمارا گاؤں اور دادی کا گھر ہے…اپکو صرف دادی کےگھر سے پاؤں کا نشان ملا …اس١٥ کلومیٹرکے سفر میں کہیں نہیں ملا اب١٥ کلو میٹر کاسفر کرکے یہ نشان ملا جب کہ ساتھ میں اور بھی ٥ گاۓ کے پاؤں کےنشان پڑےہیں اپ کیسے وثوق سے کہہ سکتے ہیں ،،،، سب نے بیک آواز میں کہا اس بابے نےکہہ دیا ہے لہذا اب ماننا پڑے گا …قصّہ مختصر اس بوڑھے نے اعلان کردیا کہ ہمارا مطلوب اسی راستے سےگیا ہے…. باقیوں نے فوراسرخم تسلیم کیا اور ٥ موٹرسائکلوں کاقافلہ اسکی معیت میں چل پڑا … راستے میں معلومات لیتے لیتے اس آخری جگہ تک لاکھڑا کیا جہاں سے اس بوڑھے کویقین تھا کہ اس جگہ سے چوری شدہ گاۓ کو کسی پک اپ یاسوزوکی میں ڈال کرمنڈی لے جایا گیا ہے…. میری طرف متوجہ ہوکر بابے نے پوچھا یھاں قریب میں ایسا کوی رہتا ہے جس پرتمہین شک ہو کہ گاۓ اسنےچرائی ہو …یہاں قریب میں بس زلفی رہتا تھا میں نےاس کانام لےدیا …با بے نےزلفی کے پاؤں کےنشان لینے کاعلان کیا….اتفاقا زلفی ادھر سے گزرا میں نےروک لیا…بابے نے اس کے چلنے کاانداز دیکھا …پاؤں کا نشان دیکھنے کےبعد فیصلہ صادر کردیا کہ گاۓ زلفی نےچوری کی ہے…..میرےاس سوال پر کہ اپ کوپکا یقین ہےنآ کہ چور زلفی ہے …بابا مسکرا کر کہنے لگا دنیا کی کسی عدالت میں چلے جاؤ میں جھوٹا ہوا تو میری سزا گولی ہے ….. بعد کی تحقیق اورشبوت کےبعد زلفی چور ڈیکلئر ہو گیا….. ایسے کھوجی نایاب اوریہ پیشہ زوال پذیر ہے کاش ان کو حکو متی سرپرستی ملتی تویہ ملک وقوم کیلنے کس قدر فائدہ مند ہوتے یہ کہنےکیضرورت نہیں …….

[ABTM id=3161]

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں