لبرل ،روشن خیالی ،سنگل مدر

سنگل مدر اور ڈیٹ مارنے کے حقوق . بقلم مولوی روکڑا

تحریک نسواں کی تحریک نےآزادی کے نام پر عورتوں کو اگر کچھ تحفہ دیا تو وہ ہے ” سنگل مدر ( Single mother )” ہے ، امریکا میں اس وقت 18.1 ملین بچے ایسے ہیں جو کہ سنگل مادر کے خاندانی ڈھانچے میں پیدا ہوۓ .میری اس پوسٹ میں سنگل مادر سے مراد وہ عورت ہے جو شادی سے پہلے ماں بن جاتی ہیں اور پھر کسی وجہ سے اپنے بؤےفرینڈ وغیرہ کے ساتھ شادی نہیں کرتی اور وہ اپنا جنسی غبار نکال کر اس کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے یا پھر وہ عورت جس کو نہیں پتا کہ بچے کا باپ کون ہے !

خیر امریکا ایک ترقی یافتہ ملک ہے اگر وہاں پر سنگل مادر کی تعداد زیادہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑھتا، اگر ایسی مائیں نوکری نہ بھی کریں تو بچے کی پرورش کے لئے حکومتی سپورٹ حاصل ہوتی ہے . کیوں کہ ترقی یافتہ ملکوں میں ویلفیئر سکیم سے شہریوں کا خیال رکھا جاتا ہے. لیکن یہ تحریک ناسور کا ناسور صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود تھوڑا ہی ہے ، تحریک ناسور کے متاثرین میں فلپائن جیسے غریب ملک میں سنگل مادر کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے. تحریک نسواں عرف تحریک ناسور نے عورتوں کو کوئی خاص حقوق تو نہیں دلوائے لیکن مردوں کے لئے عورتوں تک پہنچنے کا راستہ ضرور ہموار کیا ہے ، سنگل مادر چونکہ اکیلے پن کا شکار ہوتی جس کی وجہ سے وہ متعدد نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں،

شادی کی ذمہ داری اٹھاۓ بغیر جسمانی تعلق کا اصل فائدہ بہرحال مرد کو ہی حاصل ہوتا ہے، کیونکہ مرد نے ہوس پوری کر لی اور رومانس کے مزے بھی اٹھا لئے ، اور اب رہی عورت اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری تو وہ عورت خود ہی اٹھاتی رہے … .. جبکہ تحریک نسواں اس مردانہ فائدے اور عورت کے نقصان پر مبنی احمقانہ تعلق کو عورت کی آزادی سے تعبیر کرتی ہے .

کچھ بیبیاں لڑکیوں کا ڈیٹ مارنے کے حق میں لمبا چوڑا لکھ رہی ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بنیادی طور پر یہ احساس کمتری کا شکار اور ایک ترسا ہوا طبقہ ہے جو مغرب کے لائف سٹائل کو افورڈ تو نہیں کرسکتا، لیکن اس لائف اسٹائل کے ان پہلوؤں کو اپنانے کا مشاق ہے جن کے اثرات سے خود مغرب کا خاندانی و معاشرتی نظام شدید مشکلات کا شکار ہے ـ یہ طبقہ اپنے تجارتی مقاصد کے حصول کے لئے پاکستانی معاشرے پر ایسا کلچر مسلط کرنا چاہتا ہے جو یہاں کے معاشرتی ماحول سے مطابقت نہیں رکھتا ، مغرب میں اسکے ضمنی اثرات کیا ہیں ،اس سے نہ تو ان کو کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی انہوں نے اسکے اثر کو کم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس انتظام کر رکھا ہے ؟ یہ طبقہ نہ پاکستان میں انکی اقدامات کی سرے سے ضرورت محسوس کرتا ہے نہ انکی غیر موجودگی سے انہیں کوئی فرق پڑتا ہے۔ انکو بس سیکس اور زنا کا مادف پدر آزاد ماحول چاہیے جس میں جنسی ضروریات بالکل اسی طرح پوری ہوں جیسے جانور کرتے ہیں ـ

حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان نہ فری سیکس سوسائٹی ہے نا ایک ویلفیئر اسٹیٹ، مگر مغرب میں نہ تو حکومتیں کرپٹ ہیں نہ وہاں کے سسٹم اپنے لوگوں کو ذلیل و خوار کرتے ہیں، اگر کوئی لڑکی نو عمری میں ماں بن جائے جو کہ اکثر ہوتا ہے تو اس کے لیے حکومت کی طرف ماہانہ خرچہ ، صحت کی نگہداشت اور دوسری بنیادی ضروریات کا پورا پورا خیال حکومت کی طرف رکھا جاتا ہے، دوسری طرف پاکستان میں تو ویسے ہی زندگی کے لالے پڑے ہوتے ہیں. لہذا یہ ڈیٹ کے حقوق پر لمبے چوڑے آرٹیکل لکھنے کے بجائے اپنے سسٹم کو ٹھیک کرنے اور نظام انصاف کو ٹھیک کرنے پر زور دیں،

اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہے تو اپنے احباب کے ساتھ بھی شئیر کریں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سنگل مدر اور ڈیٹ مارنے کے حقوق . بقلم مولوی روکڑا” ایک تبصرہ

  1. سنگل مدر کا نام سن کر ہی بندہ ذہنی کوفت میں مبتلاہو جاتا ہے
    کجایہ کہ اپنےمعاشرےمیں ٰٰاس ناسور کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کوی بغلیں بجایے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں