تربیت

اپنی ذات میں استقامت کیسے پیدا کریں۔ مدیحہ فاطمہ قاسم

دین کے حوالے سے استقامت راہ دین پر ثابت قدمی کو کہتے ہیں اور یہ استقامت حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دین پر استقامت قائم کرنا کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جن فرائض کی ادائیگی کا حکم ہمیں دیا ہے ان پر قائم رہنا اور سختی سے جمے رہنا ہی استقامت ہے۔ جب یہ استقامت دل میں پیدا ہو جاتی ہے تو ہمارا ایمان اور عقیدہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دل ہی ایمان کی جڑ ہے۔ جب دل صحیح ہو گا تو انسان پورے کا پورا صحیح ہو گا۔ یعنی استقامت قلب سے مراد یہ ہے کہ انسان یقین کامل کے ساتھ ایمان (صحیح اسلامی عقیدہ) کو قبول کر لے اور موت تک اسی پر ڈٹا رہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَاسۡتَقِمۡ کَمَاۤ اُمِرۡتَ وَ مَنۡ تَابَ مَعَکَ وَ لَا تَطۡغَوۡا ؕ اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ
آپ ثابت قدم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔اور وہ بھی (ثابت قدم رہے) جس نے آپ کی معیت میں (اﷲ کی طرف) رجوع کیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔(سورۃ ہود۔آیت 112)

حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا

“اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اسلام میں ایک ایسی بات بتا دیجئے کہ پھر میں اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی سے نہ پوچھوں “۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “تو کہہ میں ایمان لایا اللہ پر پھر ڈٹا رہ “۔

ہم اپنی زندگی میں کئی مرتبہ پلان کرتے ہیں لیکن استقامت کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس پر حسب ضرورت عمل نہیں کر پاتے۔ ہمیں اپنی زندگی کے ہر معاملات میں کامیابی کے لیے استقامت کو اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ایسی کون سی چیزیں ہے جو استقامت میں رکاوٹ ہیں۔
بنیادی طور پردین میں استقامت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ” دنیا کی محبت” ہے۔ انسان اسی محبت کے وجہ سے دین پر قائم نہیں رہ پاتا۔ استقامت دین کے لیے ہمیں اپنے دل سے دنیا کی محبت کو ختم کرنا ہو گا۔ استقامت کے حصول کے لیے جن بنیادی باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے ان میں سرفہرست صبر کے حصول کی کوشش ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کے ایک فرمان کے مطابق جس نے اپنے اندر صبر کی صفت پیدا کرلی گویا اس نے سب سے بہتر اور سب سے وسیع خیر و بھلائی کو حاصل کر لیا۔اس کے علاوہ صالحین یعنی نیک لوگوں کی صحبت سے بھی انسان میں استقامتِ دین کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور بندے کے ایمان کو تقویت ملتی ہے۔

دین کے علاوہ دنیاوی معاملات میں بھی استقامت و ثابت قدمی کامیابی کے لیے بہت اہم ہے۔ ہم کوئی بھی کام کرنا چاہتے ہیں تو اس پر ثابت قدمی ہی ہمیں کامیابی سے ہم کنار کراتی ہے۔ اس معاملے میں اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں استقامت چاہتا ہے تو اسے اپنے طریقوں ، اپنی عادات اور سوچنے کے طریقے میں بھی استقامت اور ثابت قدمی پیدا کرنی ہو گی۔ استقامت حاصل کرنے کے لیے ہر دم یہ سوچنا چاہیے کہ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ آپ کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔ یہ سوال آپ کو اپنے آپ سے پوچھنے ہیں اور اس معاملے میں آپ کو اپنے ساتھ صادق، ایمان دار، بھروسہ مند ، با وثوق اور قابل اعتماد ہونا پڑے گا۔ اس کے لیے مندرجہ ذیل حکمت عملی پر غور کریں:

اپنے ساتھ ایمان دار رہیں
جھوٹ استقامت کا دشمن ہے۔ جھوٹ دھوکوں کا ایک پر فریب جال ہےجو انسان کو پھنسا کر اس کے اصل مقصد سے ہٹا دیتا ہے۔ اگر آپ اپنے ساتھ ایمان دار ہیں اور کہانیاں نہیں بناتے تو آپ استقامت حاصل کر سکتے ہیں۔ نماز فجر چھوٹ گئی تو کوئی بات نہیں قضا ہے نا اللہ معاف کردے گا۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا ہے لیکن وہ قہار اور جبار بھی ہے۔ اور جان بوجھ کر کیے گئے گناہ سچی توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتے۔ یا سگریٹ ایک دفع پی لینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ فلاں نے بھی آہستہ آہستہ ترک کی میں بھی آہستہ آہستہ ہی کروں گا۔ اور وہ آہستہ کبھی بھی نہیں آتی ۔ تو یہ جھوٹ پر مبنی کہانیاں اور طفلی تسلیاں ہیں جو اپنے آپ کو عموما دی جاتیں ہیں۔ تو سب سے پہلے ہم اپنے آپ سے جھوٹ بولنا ترک کریں اپنے ساتھ ایمان دار رہیں۔

٭ منظم رہیں
یعنی آپ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں اس کے بارے میں پہلے سے ہی سوچیں کہ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور کس طرح۔ رستے کا تعین کیے بغیر اندھوں کی طرح بس چل پڑنا کامیابی کی طرف نہیں ناکامی کی طرف لے جاتا ہے۔ جب اہداف کا صحیح تعین نہیں ہوگا تو استقامت کا حصول مشکل ہوجائے گا۔

٭ اچھے دوست بنائیں
اچھی صحبت اور اپنے اہداف سے متعلقہ دوست احباب بنانے سے بہت مورل اسپورٹ ملتی ہے۔ ایک کے ساتھ دوسرا بھی مل جائے تو منزل آسان ہو جاتی ہے۔ اس لیے اچھی صحبت کو اپنائیں تاکہ اپنے کاموں میں استقامت حاصل کر سکیں۔

آخر میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم اس معاملے میں اپنے پروردگار سے مدد طلب کریں۔یقیناً کوئی بھی کام اللہ کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جب بھی کوئی ارادہ کریں توہمیشہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین و دنیا اور تمام اعمالِ صالحہ میں استقامت نصیب فرمائے۔
رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ
“اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما،
یقیناً تو ہی بڑی عطا دینے والا ہے۔” ( سورۃ ال عمرآن ۔آیت8)

اسائن منٹ
1. آج اپنی ایسی عادتوں میں سے کسی دو کی نشاندہی کریں جن سے آپ چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں جیسے اگر آپ نماز پڑھنا چاہتے ہیں اور نہیں پڑھ پاتے ۔
2. اس کے بعد ان عادتوں کو چھوڑنے کا ٹائم فریم مقرر کرلیں کہ کتنے عرصے میں آپ ان بری عادتوں کو ترک کردیں گے؟
3. اس کے بعد آپ وہ بری عادتیں ترک کرنے کی کوشش شروع کردیں۔
4. جب جب آپ اس میں ناکام ہوں تو اپنے اوپر جرمانہ لگائیں کہ اتنی رقم اللہ کی راہ میں انفاق کرنی ہے۔ یہ جرمانہ نہ تو بہت زیادہ ہو کہ آپ دے نہ سکیں اور نہ بہت کم کہ آپ کے نفس پر گراں نہ گذرے۔

مدیحہ فاطمہ قاسم

اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہے تو اپنے احباب کے ساتھ بھی شئیر کریں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں