اوللاد کی تربیت

تربیت – نوید شاہد

ہمارے معاشرے میں زیادہ تر لوگ اپنی اولاد کے بگڑ جانے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی اولاد کو اچھا کھلا تے پلاتے ، اچھے تعلیمی اداروں میں بھرتی کراتے اور ہر طرح کی ممکنہ خواہشات پوری کرتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کی اولاد بگڑ رہی ہوتی ہے۔

یہ سب آسائشات اولاد کو ان کی بہتری کے لیے مہیا کرنے کے باوجود سب سے اہم پہلو جس کو اکثر والدین نظر انداز کر دیتے ہیں وہ ہے “تربیت”۔ہمارے لوگ پیسہ کمانے کے لیے دن رات ایک کر دیتے ہیں ۔لیکن جن کے لیے کماتے ہیں ان کو ذرا بھی وقت نہیں دے پاتے، ان کی شخصیت کے بارے میں کوئی فکر نہیں کرتے اور ان کی ذرہ برابر بھی تربیت نہیں کر پاتے۔یہ سچ ہے کہ انسان جتنا وقت کمانے پر لگاتا ہے اگر اس کا ایک چوتھائی بھی اپنی اولاد کی تربیت کیلئے وقف کر دے تو اس سے نا صرف یہ کہ اولاد خوش ہوتی ہے بلکہ ان کی شخصیت کی تعمیر بھی اعلیٰ اقدار پر کی جا سکتی ہے۔اس طرح معاشرے کی اصلاح بھی ہوگی اور ایک دن سارا معاشرہ باشعور اور مہذب بن جائے گاکیونکہ معاشرہ افراد کا ہی مجموعہ ہے اور اگر ہر شخص اپنے آ پ اور اپنی اولاد کو بہتر کرنے کے ساتھ دوسرو ں کی بھی رہنمائی کرے تو چند ہی سالوں میں ہم مہذب قوموں میں شمار ہو ں گے۔

مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ معاشرے میں آسان زندگی گزارنے کے لیے صرف پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اس لئے ہم ساری کی ساری زندگی صرف پیسہ کمانے میں گزار دیتے ہیں۔جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ زندگی میں پیسے کہ علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہیں جن کے بغیر زندگی ادھوری رہ جاتی ہے۔شعور،اخلاق اور تربیت بہت اہم چیزیں ہیں جن کے بغیر اچھی زندگی گزارنا ناممکن ہے۔ لیکن افسوس کہ ہماری قوم کی اکثریت ان تینوں چیزوں سے عاری ہے۔ہم لوگ تعلیم حاصل کرتے ہیں تو پیسے کمانے کے لیے۔نوکری یا ملازمت کرتے ہیں تو صرف اور صرف پیسہ کمانے کے لیے۔

ہماری ہر جدوجہد کا مقصد مادی خواہشات کا حصول ہوتا ہے۔ ملک و قوم کی خدمت اور فرائض کو امانتداری سے انجام دینے کے بارے میں کبھی کوئی خیال ہمارے ذہن کے حاشیے میں بھی نہیں گزرتا اور یہی سوچ ہم اپنی اولاد میں منتقل کرتے ہیں۔

اس ضمن میں ایک اہم بات ہمارے معاشرے کا منافقانہ رویہ بھی ہے۔ہمارا معاشرہ دوہرے معیار کا شکار ہے کتابوں میں بچوں کو پڑ ھایا جاتا ہے کہ جھوٹ بولنا گناہ اور سب برائیوں کی جڑ ہے۔لیکن جب وہی بچہ گھر (واپس اپنے ماحول میں) آتا ہے تو اس سے جھوٹ بلوایا جاتا ہے۔جب باہر دروازئے پر کوئی آ ئے تو اس سے کہلوایا جاتا ہے کہ ان سے بول دے جن سے کام ہے وہ گھر پر نہیں ہیں جبکہ حقیقت میں موصوف گھر پر ہی ہوتے ہیں۔

بچہ پڑھتا ہے کہ گالی گلوچ کر نا ایک نہایت ہی بر اعمل ہے اور اس کا بہت گناہ بھی ہے لیکن جب وہی گالی گلوچ گھر،گلی اور سکول میں سننے کو ملتی ہے تو بچہ مایوس ہوجاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ اس نے پڑھا ہے وہ صر ف اور صرف کتا بی باتیں ہیں اور ان کا حقیقت میں عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں اور ان کو صرف رٹنا اور یاد کر کے امتحان پاس کرنا ہے۔یہ باتیں صرف امتحان پاس کرنے کے کام آتی ہیں۔یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم بچوں کو ادب کتابوں کی حد تک ، امتحانات میں پاس ہونے کے لیے سکھا رہے ہیں۔جب کہ ہمیں ایسے پہلوؤں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

نوید شاہد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں