سماجی خوف سے نجات کیسے؟۔۔۔حافظ محمد شارق

سماجی خوف یا ڈر دراصل ایک خاص قسم کی نفسیاتی بیماری ہے، جس میں مبتلا فرد ہروقت یہ محسوس کرتا ہے کہ ” لوگ صرف اسی کو دیکھ رہے ہیں اوراسی کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔” یہ نفسیاتی کسی بھی فرد کو ہوسکتا ہے بالخصوص ایسے افراد کو جنھیں ماضی میں کسی ناکامی کے بعد لوگوں کی جانب سے تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑا ہو۔

ایسے میں انسان ہر وقت اس بارے میں خوف زدہ رہتا ہے کہ اگر وہ کچھ کہے گا، یا کوئی بھی کام انجام دے گا تو لوگ انہیں تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔اسی خوف میں جیتے ہوئے وہ لوگوں سے حتیٰ الامکان کم تعلق رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص حقیقتاً Reserved یا کم گو شخصیت کا مالک ہو مگر عام طور پر جب وہ گفتگو کرتے ہیں تو ان کے اندازِ گفتگو سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ اس سماجی خوف کی بیماری میں مبتلا نہیں بلکہ وہ بلا ضرورت بولنا پسند نہیں کرتے۔ اس کے برعکس جو لوگ سماجی خوف میں مبتلاء ہوں وہ نہ صرف یہ کہ کم بولتے ہیں بلکہ بات کرنے سے کتراتے ہیں اور مختصر جواب دے کر موضوع کو Avoidکرنے کی کوشش کرتےہیں۔

عام طور پر سماجی خوف میں مبتلاء ہونے کی وجہ خود اعتمادی کی کمی کے ساتھ ساتھ ممکنہ تلخ ماضی ہوسکتا ہے ۔ مثال کے طور پر کسی شخص نے کسی اچھے کام کو بھلا جانتے ہوئے انجام دینے کی کوشش کی لیکن ذاتی تجربے کی کمی کے باعث وہ کام اتنے مہارت سے انجام نہ دیا جاسکا ۔ایسے تجربے کے بعد سننے والے تبصروں سے اگر اس شخص کے ذہن میں منفی اثر پڑتا ہے اور تو وہ اس کام کے متعلق خوف کا سبب بن جاتا ہے۔

سماجی خوف سے نجات حاصل کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر آپ واقعی اس سے نجات پانے کا پختہ ارادہ کیے ہوئے ہیں تو آپ چند معمولی چیزوں پر عمل کرکے اس سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔

• سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کیجیے کہ آپ کس صورت حال کو سامنا کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ مخالف جنس سے گفتگو، تقریر، کسی محفل میں بیٹھنا یا آشنا اور نا آشنا لوگوں گفتگو سے کرنے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔ ان تمام صورت حال کو جاننے کی کوشش کریں اور جتنا ممکن ہو جان بوجھ کر ان کا سامنا کریں۔

• سماجی خوف کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات اس بات کو بہت زیادہ محسوس کیا جاتا ہے کہ تمام لوگ آپ کے بارے میں اپنی رائے قائم کررہے ہیں۔ یہی سوچ آپ کے اندر خوف پیدا کرنے لگتی ہے لہٰذا سب سے پہلے ضروری ہے کہ آپ اپنے اندر اس منفی سوچ کو ختم کریں۔اس بارے میں بے پروا ہوجائیں کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔

• قطع نظر اس بات کہ وہ آپ کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں آپ کو اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے اور دل جمعی کے اپنے جائز اور صحیح کام کو انجام دینے میں مگن رہنا چاہیے۔

• محفل و مجالس میں خود کو خاموش طبیعت ظاہر کرنے سے بہتر ہے کہ بہتر موقع پر اپنی طرف سے گفتگو میں کچھ حصہ شامل کیجیے جس کی مدد سے آپ کی موجودگی کا ثبوت بھی رہے اور آپ کے سماجی خوف کا سدباب ہوسکے۔ممکن ہے دورانِ گفتگو آپ اس بات کو محسوس کریں کہ آپ کی بات کو اہمیت نہیں دی گئی مگر اس سوچ کو خود پر حاوی نہ کیجیے کیونکہ عین ممکن ہے کچھ لمحات کے بعد آپ کو احساس ہو کہ آپ کی بات کتنوں کے معنی خیز ثابت ہوئی۔

• اپنے آپ کو اس بات کا یقین دلائیے کہ آپ گفتگو کرسکتے ہیں ۔

• گفتگو کو بوجھ کے بجائے ایک تفریح سمجھتے ہوئے کیجیے۔

• جلد بازی نہ کیجیے، شعوری طور پر اپنے دماغ کو حاضر رکھتے ہوئے آہستہ اور اچھے انداز سے گفتگو کریں۔

• اگر آپ سے کوئی گفتگو کا خواہش مند ہو تو بغیر کسی ڈر کےاس سے بات کیجیے۔ لیکن دھیان رہے کہ آپ کے جوابات نہا یت مختصر نہ ہوں کیوں کہ یہ آپ کی شخصیت سے متعلق مخاطب پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

• یہ معمول بنا لیں کہ روزانہ آپ کو باوازِ بلند مطالعہ کرنا ہے ۔ کتاب کے الفاظ واضح بولیے تاکہ آپ میں بولنے کی عادت ہو۔

• کوئی پیرگراف یاد کرکے اسے شیشے کے سامنے دہرائیے۔

• اپنی باڈی لینگویج آزاد رکھیے۔

حافظ محمد شارق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں