ہم حسد کیوں کرتے ہیں؟ – عدن خان

اللہ پاک نے ابلیس کو کیوں راندہ درگاہ کیا ؟ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو کیوں قتل کیا ؟ اور یوسف کے بھائیوں نے انہیں اندھیرے کنویں میں کیوں ڈالا ؟ جواب ظاہر ہے کہ حسد ،رقابت ،عداوت اورنفرت جیسے خسیس جذبات کی بنیاد پر۔حسد، کسی کی دولت،حشمت ،جاہ و منصب، علم، ذہانت اور چاہتوں کو دیکھ کر دل میں پنپتا ہے ،دل کی تنگی کا باعث ہوتا ہے، چنانچہ حاسد، ان اوصاف کے حامل لوگوں سے ان اوصاف کے چھن جانے کا متمنی ہوتا ہے۔ان خوبیوں کو پامال کرنے یا مٹانے کے در پے ہوتا ہے، اپنی محرومیوں ، حسرتوں اور ناکامیوں کا ماتم کسی اور کی خوشیوں پر کرنا چاہتا ہے۔ وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے اس کائنات کی کسی شہ کو ایک نہج یا ایک فطرت پر نہیں پیدا کیا ۔سب کی صورت الگ، خاصیت جدا، غرض و غایت میں فرق۔ مادی سے ماورائی سبھی چیزیں مختلف ۔ دنیا میں یہ اختلافات نہ ہوتے تو نہ دنیا اتنی رنگین ہوتی اور نہ انسان اس دنیا میں اتنی دلچسپی لیتا ۔ اللہ تعالی نے فرمایا:یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہے دے گا ” (المائدہ: 54)

چیزوں کی طرح اللہ تعالی نے انسانوں کوبھی یکساں نہیں پیدا کیا ان میں بے شمار حیثیتوں سے فرق پیدا کیا ہے، کوئی خوبصورتی و حسن کا شاہکار تو کوئی بد صورتی کا نمونہ، کوئی خوبیوں کا مرجع تو کوئی خامیوں کا پیکر،کوئی علم کا سمندر تو کوئی قطرے سے بھی خالی، کوئی صنعت و حرفت میں ماہر تو کوئی کامل اناڑی، کوئی خوش الحان تو کوئی بھونڈا، کوئی سلیم الاعضاء تو کوئی اپنگ، کوئی ذہنی قوت کا حامل تو کوئی جسمانی ۔غرض اسی فرق و امتیازپر انسانی تمدن کی ساری گوناگونی قائم ہے۔ کسی بھی طرح کے مساوات کی ان میں اللہ تعالی نے کوئی گنجائش نہیں رکھی ۔ جو بھی اللہ کے اس نظام کو بدلنا چاہے تو اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔
اللہ تعالی نے فرمایا:

کیا آپ کے رب کی رحمت تقسیم کرنے والے یہ لوگ ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کاسامانِ حیات ان کے درمیان ہم نے تقسیم کیا ہے اور ہم نے بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے خدمت لے سکیں۔ اور آپ کے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو یہ جمع کررہے ہیں“. (زخرف:32)

اللہ تعالی نے فرمایا:”اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو ، جو مردوں نے کمایاہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ۔ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے“ (النساء: 23)

اللہ تعالی نے واضح طور پر بتادیا کہ ایک کو دوسرے پر فوقیت دی گئی ہے توپھراس فوقیت پر واویلا کیسا؟ اور حسد کیسا؟کیا حسدکرنے سے بد صورت انسان خوبصورت ہوسکتا ہے ؟ فقیر امیر بن سکتا ہے؟ یا نیچ ذات اعلی ہو سکتی ہے؟ یا بھونڈا خوش الحان ہو سکتا ہے؟ نا ممکن ! پھر کیا وجہ ہے کہ انسان کسی کو آگے بڑھتا دیکھ نہیں سکتا؟ کیوں کسی کی نعمتوں کی پامالی کا خواہاںہوتا ہے؟ کیوں حسد جیسے خطرناک مرض کو اپنے اندر جگہ دیتا ہے جو خود اس کا ہی نہیں اس سے متصل سارے لوگوں کی تباہ کاری کا موجب بنتا ہے؟ کیوں نہیں ان کی بھلائی اور ترقی کے لیے دعاگو ہو تاکہ اللہ تعالی اس کے لیے بھی شاید ویسی ہی بھلائیاں مقدر کردے۔
‎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”ایمان اور حسد بندہ کے دل میں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے “ (بیہقی وابن حبان)۔

اس حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنے ایمان کاجائزہ لیناچاہیے کہ آیا ہمارا ایمان صحیح و سالم ہے بھی یا نہیں۔ایک مومن کا یہ شیوہ نہیں ہے کہ وہ کسی کی نعمتوں کو دیکھ کر جلے، ہاں یہ گنجائش ضرورہے کہ کسی کی صلاحیت و قابلیت اورنعمت کو دیکھ کراس جیسی صلاحیت وقابلیت اورنعمت کی تمنا کر ے اور اس کے حصول کے لیے دن رات محنت اور دوڑ دھوپ کرے نیز اپنی ساری خوبیوں اور توانائیوں کو بروئے کار لائے ۔ایسا جذبہ قابل قدر ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس جذ بہ میں دوسروں کی بربادی کی خواہش نہیں ہوتی اور نہ ہی اوروں کے محلوں کو چکنا چور کرنے کی تڑپ ہوتی ہے بلکہ خود کو اونچا اٹھانے کی فکر ہوتی ہے۔ اس کے لیے اسلام مانع نہیں ہے۔ اسلام میں ممانعت ہے تو بس حسد کی۔

حسد ایمان کو کمزور کرتاہے، فسق و فجور پیدا کرتا ہے،خصومتیں پالتا ہے،صلہ رحمی کا خاتمہ کردیتا ہے، حسد کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے اور ایسا شر ہےجس سے اللہ تعالی نے پناہ مانگنے کو کہا ہے، یہ ایک تخریبی جذبہ ہے لہذا ہمیں اس سے بچے رہنا چاہیے ۔اس کے لیے تھوڑی سی محنت درکار ہے ، تھوڑی سی سوجھ بوجھ اور صبر کی ضرورت ہے ۔ حسد کا جذبہ اگر غالب آجائے تو صحابہ کرام کی زندگیوں کی مثال اپنے سامنے رکھیں۔

اگر جنت کا حقدار بننا ہے تو دل کو حسد سے بچاناہوگا۔ اپنی قدر پر راضی بہ رضا اور شاکر رہنا ہوگا،اس بات پریقین رکھنا ہوگاکہ نعمتیں اور محرومیاں اللہ ہی کی طرف سے ہیں، ہمیشہ اپنے سے کمتر لوگوں کی طرف دیکھ کر اللہ کا شکر بجا لانا ہو گا کہ اللہ تعالی نے فرمایا ”اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید دوںگا “
اللہ تعالی ہم سب کو حسد جیسی بیماری سے بچائے (آمین)

عدن خان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں