چلغوزہ ،پردہ ،اور عورت

ہنگامہ ہے کیوں بھرپا ؟ چلغوزے کی مثال اور جھگڑا . مبین احمد

چلغوزے کی مثال اور جھگڑا . مبین احمد

بات کچھ یوں ہوئی کہ حجاب کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی خاطر مثال دی گئی کہ بغیر چھلکے کے چلغوزہ خراب، دراڑ والے چھلکے کے ساتھ چلغوزہ نصف خراب اور سالم چھلکے کے ساتھ چلغوزہ عمدہ۔۔۔۔ یہی مثال عورت اور حجاب کی ہے۔

اوپر ذکر کردہ مثال میں کوئی ایسی خرابی نہیں جس پر بندہ اپنی کرسی سے چند انچ بھی اوپر ہو۔۔۔۔۔۔۔ مگر لبرلز کا حال یہ ہے کہ وہ اس مثال پر اچھلے ہی نہیں بلکہ بار بار پھدک بھی رہے ہیں کہ یہ کیا مثال ہے؟؟؟ پہلے لولی پاپ پھر مٹھائی پھر ٹافی اور اب چلغوزہ۔۔۔۔۔ انسان الله کی بہترین تخلیق ہے پھر اس کا موازنہ چھوٹی سی چیز چلغوزے سے کیوں۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ عورت کو چیزوں کے ساتھ کیوں تشبیه دی جاتی ہے۔۔۔۔ عورت کوئی “چیز” تھوڑی ہے جو تم لوگ مقابلہ کرتے ہو۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

قرآن و حدیث کی روشنی میں بھی جواب دیا جا سکتا ہے مگر فی الحال میں عقلی دلائل پر ہی اکتفا کروں گا کیونکہ ان لبرل کا بس نہیں چلتا ورنہ یہ آیاتِ قرآنی پر بھی اعتراض کر اٹھتے کفار کی طرح کہ مثال ایسی دی جاتی ہے کیا؟؟؟

جب عورت کی آنکھ کو جھیل جیسی اور اُسی جھیل میں سمندر نظر آجائے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ جب اُسکی زُلفوں میں سے کالے گھنے بادل برآمد کر لو تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ جب اُسکی چال کو ہرنی کی نازک چال سے تشبیه دے کر بھی وہ اُسے عورت ہی تسلیم کرو تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ جب اسکے جسم کے خد و خال کو وادیاں قرار دے کر سیر سپاٹے کر آؤ تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ جب اس کی آواز کو پرندے کی آواز سے مثل دینے پر اسے پر نہیں لگتے۔۔۔۔۔اسکی رنگت کو دودھ اور برف سے تشبیه پر اسکا رنگ نہیں بہتا اور نہ ہی جسم کی حرارت ختم ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔تو یہ سب ٹھیک ہے۔۔۔ اسی پسِ منظر میں کسی رال ٹپکاتے شاعر کی دو چار غزلیں پڑھ لیں۔۔۔ عورت آپکو عورت کم اور جنگل ذیادہ لگے گی۔۔۔ کہ جانوروں کی چال،،،، جانوروں سی آواز۔۔۔ ندیاں۔۔۔جھیل۔۔۔گہرائیاں۔۔۔اونچائیاں۔۔۔۔ وادیاں۔۔۔ ویرانیاں۔۔۔۔ ڈھلتے ابھرتے چاند۔۔۔۔۔ سورج کی سی گرمی۔۔۔۔ برف سی ٹھنڈک۔۔۔۔۔ سب ملے گا مگر عورت نہیں ملے گی۔۔۔ درِ قُبا سب ملے گا۔۔۔ مگر حیا نہیں ملے گی۔۔۔ یہ سب مثالیں کیوں قبول ہیں؟؟؟؟؟؟

رہی بات عورت کو “چیز” سمجھنے کی تو در حقیقت عورت کو “چیز” لبرلز نے بنا رکھا ہے۔۔۔۔ حقوقِ نسواں اور برابری کے نعرے لگا لگا کر اسے “عورت” سے “چیز” کا سفر لبرلز نے طے کروایا ہے۔۔۔۔میں ذیادہ دور کا سفر نہیں کرواتا اپنے شہر میں نصب بڑے بڑے اشتہاری بورڈز پر نظر ڈالیں جو چیز بکنے والی ہے اسے کونسی “چیز” بیچ رہی ہے۔۔۔۔۔ مردوں کی ذاتی استعمال کی اشیإ سے لے کر۔۔۔۔مکان، دوکان، گودام، فلیٹ، اپارٹمنٹ، فارم ہاؤسس۔۔۔۔گاڑی۔۔۔ ٹائر۔۔۔۔بیٹری اور بھی بہت کچھ۔۔۔۔۔ سب میں ہی ایک “چیز” یکساں ہے “عورت”۔۔۔۔ بغیر عورت کے تو آپ لبرلز مچھر مار اسپرے تک بیچ نہیں سکتے۔۔۔۔۔ اسی عورت کو نچا نچا کر موبائل بیچتے ہو۔۔۔۔ چائے بیچنے کے لیئے بھی اسے ناچ کے نام پر کرتب دکھانے پڑتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ لبرلز ہی ہیں جن کی بدولت عورت تشہیر کا اور توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔۔۔۔عورت کو نمود و نمائش کی “چیز” بنا دیا گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور بھی بہت کچھ مگر مجھے اخلاقیات کی سرحد پار نہیں کرنی۔

لبرلز کو اس قسم کی تمام تر خرافات، فحاشی اور عریانیت میں کچھ بُرا نہیں لگتا۔۔۔۔ کوئی ایسا جملہ ان کے منہ سے نہیں نکلتا کہ “یہ کیا مثال ہے” یا “یہ کیسی حرکت ہے” ہاں ان کو ہر اس بات پر اعتراض ہے جس کا تعلق احکامِ الٰہی اور فرمانِ نبوی پر ہے۔ انہیں ہر وہ مثال قبول ہے جس میں عورت کی قبا تار تار ہوتی نظر آئے۔۔۔۔ انہیں ہر وہ مثال قبول ہے جس کے پسِ منظر میں وہ عورت کے جسم کو محسوس کر سکیں۔۔۔۔۔۔اگر اسکن ٹائیٹ جین میں ان کے سامنے سے ایک ادھ ننگا وجود گزر جائے تو یہ چپ سادھ لیں گے اور اپنی آنکھوں کو خیرہ کریں گے۔۔۔۔۔ اور اگر ان کی نظر ایک باپردہ شرم و حیا کے پیکر پر پڑ جائے تو زبان زہر اگلتے نہیں تھکتی۔۔۔۔۔۔

ان کو گوشت کی مثالیں دو۔۔۔۔ ان کو وہ مثالیں دو جو منٹو اپنے افسانوں میں لکھ گیا۔۔۔۔۔۔ وہ دو جس سے عورت کا معنی بدل جائے۔۔۔۔ سب قبول ہے مگر۔۔۔۔۔نہیں قبول تو لالی پوپ، مٹھائی، ٹافی اور چلغوزے کی مثالیں قبول نہیں ہیں۔۔۔۔۔ کیونکہ اس میں ہم ڈھانپنے کی بات کر رہے ہیں۔۔ بجائے برہنہ کرنے کے۔

عجب سوچ کے حامی لوگ ہیں۔۔۔۔۔ بات کے مقصد کو سمجھنے کے بجائے لفظوں پر گرفت چاہتے ہیں۔۔۔۔ ان لبرلز کو ادب بھی وہ چاہیئے جو مِنٹُو سکھا گیا اور شاید یہ اُسی ادب میں باتیں سیکھنا سمجھنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔مگر۔۔۔۔۔ہماری تربیت ایسی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں