حلب کے مظالم

میں نے حلب اجڑتے دیکھا- مبین امجد

میں درماندہ، لٹے پٹے اور جلتے ہوئے شہر حلب پہنچا تو ہر طرف ملبہ ہی ملبہ بکھرا دیکھا۔ وہاں مجھے ظلم و استبداد اور مسلم امہ کی بے حسی اور بے حمیتی واضح نظر آئی۔ ایک بڑھیا کی ٹانگ کٹی پڑی تھی اور وہ اپنے پپڑی جمے ہونٹوں سے شاید کسی کو پکار رہی تھی؟ جانے اپنے رب کو یا رب کے ماننے والوں کو۔۔۔

میں بھی تو اسی کے رب کا نام لیوا تھا مگر میں یہاں اپنے اخبار کو ٹاپ سٹوریز دینے کیلیے آیا تھا۔ اس لیے اس بڑھیا کے زخموں کا مداوا کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ آخر کو میں ایک بے حس اور سوئی قوم کا فرد تھا۔ سو میں نے اس چیختے اور تڑپتے منظر کی زنا زن تو یریں بنائیں اور آگے بڑھ گیا۔

آگے ایک جگہ منوں ملبے کو ہٹاتی، کھرچتی ایک ماں دیکھی۔ اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا وہ اپنے جوتے کی ہیل سے ملبہ ہٹا رہی تھی۔ چند مزید اچھی اچھی تصویروں کے لالچ میں میں بھی اسکے ساتھ شامل ہوگیا۔ اور اگلے کئی منٹ میں اس کا ہاتھ بٹاتا رہا اور تھک کر بیٹھ گیا۔ مگر جانے وہ ماں کس مٹی کی بنی تھی کہ تھکتی ہی نہ تھی۔ آخر بور ہو کر میں وہاں سے چلا گیا۔

میں آگے ہی آگے جا رہا تھا ہر طرف بہترین تصویریں بکھرہی ہوئی تھیں، میں ان کو اپنے کیمرے میں قید کرتا بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ ملبہ کھرچتی ماں میرے ذہن سے محو ہوگئی۔ آگے ایک جگہ میں نے پھر ملبہ دیکھا تو مجھے وہ ماں یاد آگئی۔ میں کئی گھنٹے بعد واپس اس کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ۔۔۔۔۔

منوں مٹی کے ڈھیر سے ایک بچہ ملا ہے۔ رتی جتنے اس کے ہونٹ ملے ہیں،ملے نہیں ہیں کھلے ہیں، ہاں مگر ملنے ہی والے تھے، شاید کچھ کہنے والے تھے، شاید ماں کہنے کو ملنے والے تھے مگر مل نہیں پائے۔ اور مٹی میں مل گئے تھے اور مٹی میں جو مل جاتا ہے کہاں ملتا ہے۔ وہ تو کھوجاتا ہے۔

اس کی ماں اسے ساتھ چمٹائے ہنس رہی تھی، شاید جان گئی تھی کہ وہ اپنے بچے کو کھوبیٹھی ہے یا شاید اس کا اطمینان اسے ہنسا رہا تھا کہ اب اس کا بچے اپنے پیدا کرنے والے کے پاس محفوظ ہو گیا ہے اور اب اسے کسی بم کا پارچہ نہیں تکلیف دے سکتا۔ مجھے اس بچے کو دیکھ کر اپنا بچہ یاد آگیا۔

مجھے یاد ہے کہ یہاں آنے سے پہلے اسے ہلکا ٹمپریچر تھا اور کیسے ہم ماں باپ نے ساری رات آنکھوں میں کاٹی تھی کہ کسی طور اسے سکون مل جائے۔ خیر اب تو وہ بھلا چنگا ہے اور محفوظ ہے، سو میں نے ماں بیٹے کے اس ملن کی چند تصویریں بنائیں اور آگے بڑھ گیا۔

آگے ایک سکول کو ملبے کی ڈھیر میں ملبوس دیکھا۔۔۔ کہ کوئی بستہ نہیں جس میں کتابوں کے علاوہ ایک چھوٹا سے ٹفن بھی ہو، ٹفن میں مامتا ہو، مامتا کے سینکڑوں ارمان بھی ہوں، مگر یہ کیا کہ ہر ایک کاغذ، ہر ایک بستہ لہو کے سرخ رنگوں میں نہایا ہے ۔۔۔۔۔۔

شاید ابھی سکول کا آغاز ہی تھا کہ کسی کاغذ پہ نیلی روشنائی تک نہیں بکھری۔۔۔ شاید یہاں ابھی زندگی نے نیم وا آنکھوں سے کھڑکی کے اس پار تکا ہی تھا، درختوں اور پودوں پر ابھی رات کی غنودگی طاری تھی، سورج پوری طرح سے نہیں جاگا تھا، نیند ابھی آنکھیں مل رہی تھی اور بستے ابھی کھلے نہ تھے کہ اجل آن پہنچی، ہر طرف آنسو، سسکیاں، چیخوں اور درد نے ہجوم کر دیا۔ اور شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاید یہی وجہ تھی کہ کاغذ ابھی کورے تھے، ان پہ نیلی روشنائی تک نہیں بکھری تھی۔۔۔ ہاں مگر بستے اور علم کے یہ طالب سرخ روشنائی میں لتھڑ گئے۔ مجھے اپنے بچے یاد آگئے۔ جانے مجھے بار بار اپنے بچے کیوں یاد آرہے ہیں۔۔ حالانکہ و ہ محفوظ ہیں اور بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ خیر میں نے یہاں بھی چند تصویریں بنائیں اور آگے بڑھ گیا۔
آگے کیا دیکھتا ہوں کوئی گٹھڑی سی ہے، گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی رو رہی ہے۔ میں دیکھا تو اس کے جسم پہ کپڑا نہیں تھا۔ اچانک میں نے کیمرہ نکالا کہ یہ تصویر تو انگریزی اخبارات والے ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔ اسی اثنا میں اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری بہن بیٹھی ہے۔۔ یا شاید بہن جیسی ہے۔ میرا کیمرے والا ہاتھ نیچے گر گیا۔ اور سر جھک گیا۔

تب میں نے جانا کہ انسان بہت خود غرض ہے۔۔ اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر کسی بھی حد تک چلا جاتا ہے۔ اپنے مفادات اور مال و متاع کی حفاطت کیلیے جان تلک وار دیتا ہے۔۔۔ مگر کسی دوسرے کا اسے کوئی احساس نہیں۔

الٰہی! اگر اس قوم پہ ایسا سخت لمحہ اتارا ہے تو میرے خالق اسے توفیق بھی دے کہ وہ اپنے بھائیوں کیلیے، اپنے نبیﷺ کے امتیوں کیلےا خلوص دل سے اپنا ارمغان جان لٹائے۔۔۔!

مبین امجد

اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہے تو اپنے احباب کے ساتھ بھی شئیر کریں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں