خوش رہنے کے لیے مثبت سوچیے

خوش رہنے کے لیے مثبت سوچیے! . عظمیٰ عنبرین

ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے خوشیوں بھری ،سکون کی زندگی مل جا ئے ،مشکلات حل ہو جا ئیں ۔مگر یہ خواہش محض ایک ناتمام حسرت ہی رہتی ہے کیونکہ فی الحقیقت آپ کسی کی بھی زندگی کے صفحات کھول کر دیکھ لیں ،وہ پریشانیوں میں گھر ا ہوا نظر آ ئے گا ۔ہر ایک کی زندگی میں ایک سے بڑھ کر ایک پریشانیوں کی داستانیں بھری ہوتی ہیں ۔ کسی کامیاب ترین یا ” بڑ ے “شخص کی زندگی میں جھانک کر دیکھ لیں ،وہ بھی اس چیز سے محفوظ نظر نہیں آ ئیں گے ۔البتہ اس صورتحال میں کرنے کا جو کا م ہوتا ہے وہ یہ ہونا چاہیے کہ یہ تمام منفی کیفیا ت مستقل ہم پر طاری نہ ہو سکیں ۔ہمیں خود کو اس با ت کے لیے تیار رکھنا چاہیے کہ تمام زندگی ،کسی بھی لمحہ،کوئی بھی کیفیت ہمارا استقبال کر سکتی ہے ۔یہ کیفیات زندگی کی علامت ہیں ،اگر مسا ئل نہ ہوتے تو آ سودگی کی پہچان کیسے ہوتی ۔ماضی کو ہم بدل نہیں سکتے اور مستقبل کے حالات ہم انسانوں کے قبضہ قدرت میں نہیں ہوتے۔اس حقیقت کو اگر سمجھ لیا جائے تو نہ ماضی کے تجربات مایوس کریں گے اور نہ ہی مستقبل کی فکر پریشان کرے گی ۔حالا ت درست کرنے کا یقینی فارمولہ الله پر کامل بھروسہ ہے ،اس سے تمام تلخیاں اور تفکرات دور ہو سکتے ہیں اور دل بھی مطمئن رہتا ہے۔

مایوسی چھوڑیے
جن تلخ واقعات کی تلافی ممکن نہیں ہے ان کے بارے میں سوچتے رہنا محض ایک قسم کا جنون ہے۔ان حالات کو سوچتے رہنا یا مایوس ہو جانا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس لیے اللہ سے بہتری کی امید رکھیے اور مایوسی کو ختم کریں اور مثبت سوچیے اس سے آپ اندرونی سکون محسوس کریں گے۔

غم کو قریب نہ آ نے دیں
جب ہم غم و فکر میں مسلسل مبتلا رہتے ہیں تو مرض کو خود ہی دعوت دے رہے ہوتے ہیں ۔غم اور ذہنی دباؤ کا جسمانی صحت پر بھی برا اثر پڑتا ہے ۔اس کیفیت میں افاقہ کے لیے ڈھیلے ڈھالے انداز میں بیٹھ کر ،آ نکھیں بند کر کے خود کو پرسکون حالت میں تصور کریں ،آہستہ آہستہ اور گہری سانس لیں۔رنج و فکر کے تمام خیالات کو ذہن سے جھٹک دیں ۔

زندگی کا مقصد متعین کریں
اگر آپ صرف کھا نے پینے ،آ رام کرنے اور پر تعیش زندگی گزارنے کو اپنا نصب العین بنا ئیں گے تو خوش اور پرسکون زندگی کے حصول میں ناکام ہو جائیں گے ۔اپنے لیے اپنی ذات سے کہیں بلند مقاصد متعین کیجیے،اپنی خدمات سے دوسروں کو مستفید کیجیے ،دوسروں پر اعتماد کریں ۔یقین کیجیے کہ خلوص نیت کے ساتھ دوسروں کے کا م آنے سے جو قلبی سکون حاصل ہوتا ہے اس کا کوئی مول نہیں اور وہ آپ کو الله سے بھی جوڑ دیتا ہے ۔کسی کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آ ئیں تو قر آ ن کریم کی اس آ یت پر کاربند ہو جا ئیں جس میں کہا گیا ہے “ہم تو تمہیں صرف الله کے لیے کھانا کھلاتے ہیں ،تم سے کوئی بدلہ اور شکریہ نہیں چاہتے ” بس سمجھ لیں کہ یہ آپ کا معاملہ الله کے ساتھ ہے ،آپ دیکھیں گے کہ یہ چیز آپ کی زندگی کا حصہ بنتی چلی جائے گی ۔اپنی کامیابی کی پیمائش اس بات سے نہیں کریں کہ اب تک کیا کیا ہے بلکہ اس چیز سے کریں کہ آپ کیا کر سکتے تھے جو آ پ نے ابھی تک نہیں کیا ۔

اپنی ایک ڈائری بنائیں
اپنے معمولات کی ڈائری بنانے سے ہم منظم انداز میں تمام کاموں کو ان کی اہمیت کے مطابق پا یہ تکمیل تک پہنچا سکتے ہیں ۔آج کل ہر انسان بے شمار مسا ئل میں پھنسا ہوا ہے ۔ایسے کاموں کا ایک ہجوم ذہن میں ہوتا ہے جنھیں مکمل کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ایسے میں کچھ باتوں کا ذہن سے نکل جانا ناممکن نہیں۔بعض اوقات یہ صورتحال تلخیوں کا با عث بھی بن جاتی ہے ،خصوصا جب کسی سے کوئی وعدہ کر رکھا ہو اور دیگر کاموں میں مصروف ہو کر وعدہ پورا کرنا بھول جائیں اور لا پرواہی کا ٹھپہ لگ جائے ۔کبھی بچوں کی فیس یا اسکول کے دیگر معاملات نمٹا نے ہوں یا بلوں کی ادائیگی کرنی ہو یا پھر کسی سے کوئی ضروری ملاقات طے کر ر کھی ہو ،ہر کا م کو اس کی اہمیت کے مطابق سرانجام دینے کے لیے ڈائری بنا لینا بہت مفید ہے ۔

تکلیف دہ یادوں سے جان چھڑوا ئیں
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمیں دوسرے انسانوں کی با تیں تکلیف پہنچاتی ہیں۔زندگی بے حد محدود ہے ،رنجیدہ ہو کر اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ایسی تمام یادداشتیں جن کی بنیاد لوگوں کی تکلیف دہ باتوں پر ہو ،ان کو بھلا دینا ہی بہتر ہوتا ہے ۔ایسی باتوں پر قطعی کوئی توجہ نہ دی جا ئے ،اگر ہم اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکیں گے تو ان کے مضر اثرات کی زد میں آ جا ئیں گے۔

دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دیں
درگزر اور محبت ایک ایسی طاقت ہے جس کے مثبت اثرات پوری کا ئنا ت میں محسوس ہوتے ہیں ۔محبت کا ایک ایک لفظ قلب کی گہرائیوں میں بسیرا کر لیتا ہے ۔لیکن جب ہم کسی سے نفرت کرتے ہیں تو ہماری نفرت کا ان کو توکوئی نقصان نہیں ہوتا لیکن ہم خود اپنے رویہ سے اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں۔دوسروں سے محبت کر کے ،ان کے لیے اچھے القابات استعمال کر کے ہم انسانیت کا احترام کر رہے ہوتے ہیں ۔ہماری بہت سا ری معاشرتی خرابیوں کا با عث وہ کینہ اور بدگمانی ہوتی ہے جس میں ہم مبتلا ہو جاتے ہیں اور دوسروں کی ہر ادا کو اپنے خلاف سازش سمجھنے لگتے ہیں اس عمل سے جس قدر برے اثرات ہما رے اپنے قلب و دماغ پر پڑتے ہیں دیگر افراد پر نہیں پڑتے ۔اس لیے لوگوں کو معاف کر دیا کریں ان کے لیے نہیں خود اپنے لیے۔ بدگمانی، کینہ و حسد جیسی بیماریوں سے حتی المکان بچا جائے اگر ایسی کوئی بیماری پید ا ہو جائے تو جس کے متعلق غلط فہمی یا بدگمانی ہے اس سے بات چیت کر کے اس کو ختم کر لیں۔اسی طرح کینہ کو محبت سے اور حسد کو تحائف دے کر ختم کریں۔ یقین جانیے ان سب کا فائدہ کسی دوسرے فرد سے پہلے خود آپ کو ہو گا۔

مثبت سوچیے خوش رہیے
ذہن کو اتنی بڑی طاقت حاصل ہے کہ مثبت خیالات کے ذریعہ نفسیاتی امراض پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے ۔اپنے ذہن پر توجہ دیں ۔ اسے دلکش بنا ئیں تا کہ دل گرفتگی ،مایوسی ،حسد جیسے جذبات قریب نہ آ ئیں ۔سب کی بہتری کے بارے میں سوچیں ،سب کے خیر خواہ بنیں ۔خوش گوار خیالات پریشانیوں کو دور کرنے کا بہترین نسخہ ہیں ۔الله سے اچھی امید رکھنی چاہیے ،وہ بندے کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ فرما تے ہیں ۔

عظمیٰ عنبرین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں