عشق حقیقی

*عشق حقیقی*

تحریر……زاہد ندیم

کون سی وادی میں ہےکون سی منزل میں ہے

عشقِ بلاخیز کا قافلۂ سخت جان

*فلسفہ عشق و محبت*
 
عشاق کس قدر مشکل و کٹھن راستے کے مسافر ہوتے ہیں، اس کا اندازہ ممکن نہیں. نہیں جان سکتے کہ کس قدر کامیابی سمیٹی اور منزل ابھی کتنی دور ہے۔ یہ معاملہ عشقِ حقیقی و عشقِ مجازی دونوں میں ایک جیسا ہے۔انسان کو بہت سے رشتوں اور بہت سی چیزوں سے محبت ہوتی ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ سے محبت،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت ،ماں باپ بیوی بچے بہن بھائی رشتہ دار دوست گھر،زمین،جائیداد شہر قبیلہ برادری خاندان ملک اور کاروبار وغیرہ سے محبت۔

جس محبت میں شدت اور جنون پیدا ہو جائے اوروہ باقی تمام محبتوں پر غالب آجائے، اسے عشق کہتے ہیں ۔عشق باقی تمام محبتوں کو جلا کر راکھ کردیتا ہے اور باقی تمام محبتوں پر حاوی ہوجاتا ہے۔ جیسے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اِرشادِ مبارک ہے: ” اِس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں تم کو تمہاری جانوں ، بیوی، بچوں، گھر بار اور ہر چیز میں سب سے زیادہ پیارا نہیں ہوجاتا۔” اللہ تعالٰی نے ذات باری تعالٰی سے شدید محبت کو مومنین کی صفت قرار دیا ہے اورعشق کا خمیر انسان کی روح میں شامل ہے۔

*عشق حقیقی*

یہ وہ عشق ہے جو خالق تعالی اور مخلوق کے بندوں کے درمیان ہوتا ہے ۔ اس درجے پر کم لوگ فائز ہوتے ہیں۔ یہ بہت ہی اعلی مقام ہے۔ اس مقام کو پانے کے لئے قرآن وسنت کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔ سمجھنے کے لیے علم اور مکمل انسانی سوجھ بوجھ ہونے کی ضرورت ہے ۔۔ اس عشق میں اپنی خواہشات کو دبانا پڑتا ہے۔۔۔ اللہ تعالی کی محبت میں انسان کی زندگی کے ساتھ جڑی ہر سانس اور دل کی دھڑکنیں جسم کے بال پکار اٹھیں: بے شک میری نماز میری ساری عبادات اور میری زندگی اور میری موت سب اللہ کے لیے ہے.

یہ بات یاد رہے کہ صرف زبانی الفاظ کو محبت نہیں کہتے، بلکہ محبت محبوب کے سانچے میں ڈھل جانے کا نام ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک شیخ الحدیث کے بیان سننے کا موقع ملا. حضرت نے بیان میں ایک نوجوان کا ایمان افروز واقعہ سنایا جو پیش خدمت ہے.

*ایک روشن مثال*

یہ واقعہ شاید کسی قصبے یا شہر میں ایک خوبصورت مال دار لڑکی رہتی تھی. اس کے گھر کے سامنے گلی گزرتی تھی. اسی گلی سے ایک خوبصورت نوجوان کا بھی گزر ہوتا. وہ اس کی طرف دیکھے بغیر سر جھکا کر اس کی گلی سے گزر جاتا. دیکھنے میں وہ کسی مدرسے کا طالب علم لگتا تھا، لیکن اتنا خوبصورت تھا کہ وہ دیکھتے ہی اسے اپنا دل دے بیٹھی. اب چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح اس پر نظر التفات ڈالے۔ لیکن وہ اپنی مستی میں مگن سر جھکائے زیر لب کچھ پڑھتا ہوا روزانہ ایک مخصوص وقت پر وہاں سے گزرتا اور کبھی آنکھ آٹھا کر بھی نہ دیکھتا. اس عورت کو اب ضد سی ہوگئی تھی. وہ حیران تھی کہ کوئی ایسا نوجوان بھی ہوسکتا ہے جو اس کی طرف نہ دیکھے اور اسے ایسا سوچنے کا حق بھی تھا. وہ اپنے علاقے کی سب سے امیر اور خوبصورت عورت تھی. خوبصورت اتنی کہ جب وہ باہر نکلتی تو لوگ اسے بے اختیار دیکھنے پر مجبور ہو جاتے۔

اسے حیرت تھی کہ جس کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے لوگ ترستے ہیں، وہ خود کسی کو پسند کرے اور وہ مائل نہ ہو، اس کی طرف دیکھنا گوارہ نہ کرے. اپنی انا کی شکست اور خوبصورتی کی توہین پر وہ پاگل ہوگئی اور کوئی ایسا منصوبہ سوچنے لگی جس سے وہ اس نوجوان کو حاصل کرسکے اور اس کا غرور توڑ سکے. آخر کار شیطان نے اسے ایک ایسا طریقہ سجھا دیا جس میں پھنس کر وہ نوجوان اس کی بات مانے بنا رہ ہی نہیں سکتا تھا۔

اگلے دن جب وہ نوجوان اس گلی سے گزر رہا تھا تو ایک عورت اس کے قریب آئی اور کہنے لگی: بیٹا! میری مالکن تمہیں بلا رہی ہے۔ نوجوان نے کہا: اماں جی آپ کی مالکن کو مجھ سے کیا کام ہے؟ اس عورت نے کہا: بیٹا! اس نے تم سے کوئی مسئلہ پوچھنا ہے۔ وہ مجبور ہے، خود باہر نہیں آسکتی۔ نوجوان اس عورت کے ساتھ چلا گیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جو عورت اسے بلا رہی ہے، اس کا منصوبہ کیا ہے؟ وہ کیا چاہتی ہے؟ وہ تو اپنی فطرتی سادہ دلی کی وجہ سے اس ے مدد کرنے کے لیے اس کے گھر آگیا.

اس کے ذہن میں تھا کہ شاید کوئی بوڑھی عورت ہے جو اپنی کسی معذوری کی وجہ سے باہر آنے سے قاصر ہے. نوکرانی نے اسے ایک کمرے میں بٹھایا اور انتظار کا کہہ کر چلی گئی. تھوڑی دیر بعد کمرے میں وہی عورت داخل ہوئی. نوجوان نے بے اختیار اپنی نظریں جھکا لیں، کیونکہ اندر آنے والی عورت بہت خوبصورت تھی. نوجوان نے پوچھا: جی بی بی آپ نے کون سا مسئلہ پوچھنا ہے؟ عورت کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آگئی. اس نے اپنے دل کا حال کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ تمہیں حاصل کرلیں.

نوجوان یہ بات سن کر کانپ گیا اور کہنے لگا: ﷲ کی بندی ﷲ سے ڈرو کیوں گناہ کی طرف مائل ہو رہی ہو۔ اس نے عورت کو بہت سمجھایا لیکن عورت پر تو شیطان سوار تھا. اس نے کہا کہ یا تو تم میری خواہش پوری کرو گے یا پھر میں شور مچاؤں گی کہ تم زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری عزت پر حملہ کیا. نوجوان یہ بات سن کر بہت پریشان ہوا. اسے اپنی عزت کسی بھی طرح محفوظ نظر نہیں آرہی تھی. اس کی بات مانتا تو گناہ گار ہوتا نہ مانتا تو لوگوں کی نظر میں برا بنتا۔

وہ علاقہ جہاں لوگ اس کی شرافت کی مثالیں دیا کرتے تھے، وہاں پر اس پر اس قسم کا الزام لگ جائے یہ اسے گوارہ نہیں تھا. وہ عجیب مصیبت میں پھنس گیا تھا دل ہی دل میں وہ اپنے ﷲ کی طرف متوجہ ہوا اور ﷲ سے مدد چاہی. اس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی. اس نے عورت سے کہا: ٹھیک ہے، میں تمہاری خواہش پوری کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن پہلے مجھے بیت الخلاء جانے کی حاجت ہے. عورت نے اسے بیت الخلا کا بتا دیا. اس نوجوان نے اندر جاکر ڈھیر ساری غلاظت اپنے کپڑوں اور جسم پر مل لی اور باہر آگیا. عورت اسے دیکھتے ہی چلا اٹھی: یہ تم نے کیا کیا ظالم۔ مجھ جیسی نفیس طبعیت والی کے سامنے اتنی گندی حالت میں آ گئے. دفع ہو جاؤ، نکل جاؤ میرے گھر سے۔ نوجوان فوراً اس کے گھر سے نکل گیا اور قریب ہی ایک نہر پر اپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح پاک کیا اور ﷲ کا شکر ادا کرتا ہوا واپس مدرسے چلا گیا.

نماز کے بعد جب وہ سبق میں بیٹھا تو تھوڑی دیر بعد استاد نے کہا کہ آج تو بہت پیاری خوشبو آرہی ہے. کس طالب علم نے خوشبو لگائی ہے. وہ نوجوان سمجھ گیا کہ اس کے جسم سے ابھی بدبو گئی نہیں اور استاد جی طنز کر رہے ہیں. وہ اپنے آپ میں سمٹ گیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے. تھوڑی دیر بعد استاد جی نے پھر پوچھا: یہ خوشبو کس نے لگائی ہے لیکن وہ خاموش رہا آخر کار استاد نے سب کو ایک ایک کرکے بلایا اور خوشبو سونگھنے لگے۔ اس نوجوان کی باری آئی تو وہ بھی سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہوگیا. استاد نے اس کے کپڑوں کو سونگھا تو وہ خوشبو اس کے کپڑوں سے آرہی تھی. استاد نے کہا : تم بتا کیوں نہیں رہے تھے کہ یہ خوشبو تم نے لگائی ہے. نوجوان رو پڑا اور کہنے لگا استاد جی اب اور شرمندہ نہ کریں. مجھے پتا ہے کہ میرے کپڑوں سے بدبو آرہی ہے، لیکن میں مجبور تھا اور اس نے سارا واقعہ استاد کو سنا دیا. استاد نے کہا: میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا. اللہ کی قسم! تمہارے کپڑوں سے واقعی ہی ایسی خوشبو آرہی ہے جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سونگھی اور یقینا’’یہ ﷲ کی طرف سے ہے کہ تم نے اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو گندگی لگانا پسند کرلیا لیکن ﷲ نے اسی گندگی کو ایک ایسی خوشبو میں بدل دیا جو کہ اس دنیا کی نہیں لگتی کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے ان کپڑوں سے ہمیشہ ہی وہ خوشبو آتی رہی ۔

یہ ہے عشق حقیقی کی بہترین مثال۔ آگے بڑھیے. ماضی کی ان تابندہ مثالوں کو اپنے وجود کے چراغ دان میں روشن کر کے خود کو ہمیشہ کے لیے امر کر لیجیے….

محمد زاہد ندیم صاحب کا تعلق ڈی جی خان سے ہے اور آج کل دبئی میں مقیم ہیں بزنس اور تجارت سے وابستہ ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

عشق حقیقی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں