کیریئر کا انتخاب کیسے کریں؟

کیریر کا انتخاب ہماری زندگی کے اُن اہم ترین معاملات میں سے ایک ہے جس کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے بدقسمتی سے جذبات، مادی خواہشات اور سماجی عوامل حد سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک درست کیریئر کا انتخاب نہ صرف آپ کی زندگی بدل دیتا ہے بلکہ آپ کی اور آپ سے متعلقہ لوگوں کی زندگیوں میں اطمینان و سکون کا سبب ہوتا ہے اور آپ معاشرے کے لیے بھی سود مند ثابت ہوتے ہیں۔
کیریئر کے انتخاب میں درج ذیل بنیادی باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

ہمارے ہاں بدقسمتی سے ہر نوجوان یا والدین اپنے بچوں کے بارے میں چاہتے ہیں وہ ڈاکٹر، انجینئر یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بنے۔ اس مقصد کے لیے ہزاروں روپے ٹیوشن پر صرف کر دیے جاتے ہیں اور ذہن پر ایک بھرپور پریشر دیا جاتا ہے کہ محنت کرکے مطلوبہ مقصد یعنی اچھے نمبر حاصل کرنا ہے۔اس ساری جدوجہد کا مقصد یہی ہوتاہے اچھے نمبروں سے پاس ہونے کی بنیاد پر ہی مستقبل میں اچھی جاب مل سکتی ہے۔ یہ بات عملی لحاظ سے بالکل درست ہے کہ اچھے مارکس اچھی جاب کے لیے ضروری ہیں مگر ہمیں یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ ان اسکولز، کوچنگ سینٹرز اور دیگر اداروں سے کامیابی کا تناسب کیا ہوتا ہے؟ کیا آپ کےاسکول /کالج کا ہر طالب عالم جس نے سائنس وغیرہ کے امتحان پاس کرنے کے لیے کوچنگ سینٹرز کی خدمات حاصل کی ہوں ، محنت بھی کی ہو، وہ آج سائنس دان یا انجینئر بن چکا ہے؟ آپ دیکھیں گے کامیابی کا تناسب انتہائی کم ہے۔اس کی وجہ محنت کی کمی نہیں بلکہ غلط راہ کا تعین ہے جہاں محنت کی جارہی ہے۔ جس طرح اولمپک کی ریس اولمپئنز کے لیے ہے سب کے لیے نہیں، اسی طرح یہ میدان بھی ہر ایک کے لیے نہیں بلکہ صرف ان کے لیے ہےجو ان صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ یہ ہرگز ممکن نہیں ہے کہ ہر شخص میڈیکل یا فزکس کی تعلیم حاصل کرسکے۔ اسی طرح یہ بھی ہرگز ضروری نہیں ہر شخص فن کار، مصنف یا ادیب بن سکے۔ یہ صلاحیتیں خدا کی جانب سے ودیعت کردہ ہوتی ہیں اور انھی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اپنے کیریر کا انتخاب کرنا چاہیے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے نوجوان ابتدائی تعلیم (میٹرک) سے فارغ ہوتے ہی فوراً انجینئرنگ یا میڈیکل کے شعبے میں چلے جاتے ہیں اور وہاں کئی سال گزارنے کے بعد ناکامی کا سامنا ہو تو پھر کسی دوسرے مضمون کی طرف مجبوری میں جاتے ہیں۔ اگر صحیح انتخاب پہلے ہی مرحلے پرکرلیا جائے تو وقت اور محنت دونوں کا اسراف روکا جاسکتا ہے۔

لہٰذا سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ دنیا کی رنگ و چمک یا کسی مجموعی رجحان سے متاثر ہونے کے بجائے سب سے آپ یہ دیکھیں کہ آپ میں کیا صلاحیات ہیں۔ اپنے آپ کو پہچانیں کہ آپ کیا ہیں؟ خدا تعالیٰ نے آپ کو کن صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے؟ انسان شعوری اور غیر شعوری طور پر دوران تعلیم ہی کچھ مشاغل وغیرہ پسند کرنے لگتا ہے ۔یا پھر کسی ایک مضمون میں دوسرے کے بہ نسبت دلچسپی زیادہ ہوتی ہے جیسے: بعض کی دلچسپی شعبہ طب میں ہوتی ہے تو بعض کی پینٹنگ وغیرہ میں۔تعلیمی مرحلے کے خاتمے پر اپنے پسندیدہ مشاغل، شعبوں کے متعلق معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کسی پرسکون ماحول میں بیٹھ کر اپنا تجزیہ لیں کہ فارغ اوقات میں کس کام کے کرنے کی طرف آپ کا رحجان زیادہ ہوتا ہے؟ اور اگر آپ کے پاس وسائل موجود ہو تو آپ کون سا کام کرنا پسند کریں گے؟کس کام سے آپ بور نہیں ہوتے۔
ممکن ہے بہت سے افراد یہ محسوس کریں کہ ان میں کوئی خاص صلاحیت نہیں ہے، ایسے میں آپ کو اپنے وسائل ،شوق اور مواقع دیکھتے ہوئے کیریر کا انتخاب کرنا چاہیے۔ مگر پھر آپ کو محض کام نہیں بلکہ اس کام میں مزید جدت لا کر اسے اپنانا چاہیے۔

صلاحیتیوں کا تعین

متعلقہ صلاحیتیں: صلاحیتوں کا تعلق انسان کے ذہنی اور جسمانی خوبیوں اور خامیوں سے ہوتا ہے۔اور کسی بھی انسان کے لیے اپنی ذہنی و جسمانی خوبیوں کا ادراک اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب وہ اپنی خامیوں کو جان لیتا ہے۔ اور پھر اپنی ذہنی وجسمانی صلاحیت اورمتعلقہ خاص مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کسی شعبہ کا انتخاب ممکن ہوتا ہے ۔مثلاً کوئی شخص معذور ہو تو وہ ریس میں حصّہ نہیں لے سکتا نہ ہی اس شعبہ میں کامیاب ہوسکتا ہے ۔یا اگر کوئی پائلٹ بننے کی خواہش رکھتا ہو لیکن وہ فزیکلی ان فٹ ہو یعنی نظر کمزور ہو یا جسمانی معذوری ہو تو وہ پائلٹ نہیں بن سکتا۔

تعلیمی صلاحیت : تعلیمی صلاحیت بھی اس سلسلے میں بنیادی اور اہم کڑی ہے جس کا ادراک ضروری ہے۔ جو تعلیم حاصل کی گئی ہے وہ اختیار کرنے والے شعبہ کے مطابق ہے؟ مثلاً اگر کسی کی خواہش ڈاکٹر یا انجینئر بننے کی ہو لیکن میٹرک میں ان دونوں شعبوں سے متعلقہ مضامین نہ پڑھے ہوں اور نہ ہی ان کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو، تو ایسا شخص ان دونوں شعبوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔اسی طرح یہ بات کہ آپ اس شعبے سے متعلقہ مضامین کو سمجھتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں بہتر یہ ہوتا ہے کہ کسی فیلڈ کا انتخاب کرنے سے قبل اس سے متعلقہ مضامین کے کچھ نوٹس اور تحاریر وغیرہ انٹرنیٹ پر پڑھ کر اندازہ کر لیا جائے۔

وسائل

ایک اور اہم چیز جسے اکثر نوجوان نظر انداز کردیتے ہیں وہ اپنے وسائل کو سمجھنا ہے۔ ہمیشہ وسائل پر بالکل منحصر نہیں رہنا چاہیے لیکن ایسا بھی نہیں کرنا چاہیے کہ اسے نظر انداز career-5کردیں۔حدود اور حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ہی کسی شعبے کا انتخاب مستقبل کے لیے کارآمد ہوسکتا ہے اور وسائل کی حقیقت سے چشم پوشی اور غیر حقیقی سوچ بہترین کیریئر کی راہ میں رکاوٹ ہے۔مثلاً آپ کو معلوم ہو کہ آپ آگےمیڈیکل کی فیس کسی بھی طرح ادا نہیں کرسکتے ، یا آپ کسی بھی وجہ سے میڈیکل کالج نہیں جاسکتے، تو ابتدائی مرحلے میں ہی اس سے پیچھے ہٹ جانا چاہیے اور اپنی دوسری پسند کا انتخاب کرلینا بہتر ہے۔یہ اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنا وقت اورصلاحیتوں کو ضائع ہونے سے بچائیں۔

انتخاب

آخری مرحلے میں تمام متذکرہ آپشنز کا تجزیہ لے کر اپنے پاس تمام پوائنٹس نوٹ کرلیجیے۔اور ان پوائنٹس کی مدد سے ،سوچ بچار، مشورہ سے اور دستیاب وسائل کو دیکھتے ہوئے اپنے لیے کسی شعبے کا انتخاب کیجیے۔اس بات کو باریک بینی سے جانچنے کی کوشش کریں کہ آپ جو کچھ بننا چاہتےہیں کیا وہ آپ کے شوق و ذوق ،مقاصد ، صلاحیت اور وسائل سے مطابقت رکھتا ہے؟ آپ اکاؤنٹنٹ بننا چاہتے ہیں مگر آپ حساب کتاب میں باوجود کوششوں کے مہارت نہیں رکھ پاتے تو پھر اس سے متعلقہ پیشے کا انتخاب آپ کے لیے بے کار ہے۔

مقرر کردہ کیریر کا تجزیہ اور منصوبہ بندی

اب اگر آپ نے کوئی فیلڈ یا پیشہ منتخب کرلیا ہے تو ایک بار پھر سے اس کا تجزیہ لازماً کرلیجیے۔کیا واقعی آپ کے پاس اس پیشے کی مطلوبہ صلاحیت ہیں؟ اگر نہیں تو ان صلاحیتوں کا حصول آپ کے لیے کس طرح ممکن ہے؟ آپ کو منتخب کردہ پیشے میں کون کون سے Skills کام آ سکتے ہیں اور اس کے لیے آپ کو کیا پڑھائی کرنی ہوگی؟ اس فیلڈ سے متعلقہ کامیاب لوگوں سے مشورہ بھی کیجیے کہ کس طرح آپ بھی اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔
حافظ محمد شارق

اگر آپ کو تحریر پسند آئی ہے تو اپنے احباب کے ساتھ بھی شئیر کریں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

4 تبصرے “کیریئر کا انتخاب کیسے کریں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں