حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے شجرہ نسب کی فضیلت

حضرت مطلب بن ابی وداعہ سے مروی ہے :
جاء العباس الي رسول اﷲ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فکانہ سمع شيئاً، فقام النّبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم علي المنبر، فقال : من انا؟ فقالوا : انت رسول اﷲ، عليک السّلام. قال : انا محمد بن عبد اﷲ بن عبد المطّلب، ان اﷲ خلق الخلق فجعلني في خيرھم فرقۃ، ثم جعلھم فرقتين، فجعلني في خيرھم فرقۃ، ثم جعلھم قبائل، فجعلني في خيرھم قبيلۃ، ثم جعلھم بيوتاً، فجعلني في خيرھم بيتاً وخيرھم نسباً.
’’حضرت عباس رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، (اس وقت ان کی کیفیت ایسی تھی) گویا انہوں نے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کفار سے) کچھ (نازیبا الفاظ) سن رکھے تھے (اور وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتانا چاہتے تھے)۔ (حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علمِ نبوت سے جان گئے) تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ اَفروز ہوئے اور فرمایا : میں کون ہوں؟ سب نے عرض کیا : آپ پر سلام ہو، آپ اﷲ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں عبد اللہ کا بیٹا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں۔ اﷲ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور اس مخلوق میں سے بہترین گروہ (انسان) کے اندر مجھے پیدا فرمایا اور پھر اس کو دو گروہوں (عرب و عجم) میں تقسیم کیا اور ان میں سے بہترین گروہ (عرب) میں مجھے پیدا کیا۔ پھر اﷲتعالیٰ نے اس حصے کے قبائل بنائے اور ان میں سے بہترین قبیلہ (قریش) کے اندر مجھے پیدا کیا اور پھر اس بہترین قبیلہ کے گھر بنائے تو مجھے بہترین گھر اور نسب (بنو ہاشم) میں پیدا کیا۔‘‘
( ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب الدعوات، 5 : 543، رقم : 3532)
حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں :
قلت : يارسول اﷲ! ان قريشاً جلسوا فتذاکروا احسابھم بينهم، فجعلوا مثلک کمثل نخلۃ في کبوۃ من الارض، فقال النّبيّ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم : ان اﷲ خلق الخلق فجعلني من خيرھم من خير فرقھم وخير الفريقين، ثم تخيّر القبائل فجعلني من خير قبيلۃ، ثم تخيّر البيوت فجعلني من خير بيوتھم، فانا خيرھم نفساً وخيرھم بيتا.
’’میں نے عرض کیا : یارسول اﷲ! قریش نے ایک مجلس میں اپنے حسب و نسب کا ذکر کرتے ہوئے آپ کی مثال کھجور کے اُس درخت سے دی جو کسی ٹیلہ پر ہو۔ اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو مجھے ان کی بہترین جماعت میں رکھا اور ان کے بہترین گروہ میں رکھا اور دونوں گروہوں میں سے بہترین گروہ میں بنایا، پھر قبائل کو منتخب فرمایا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا، پھر اُس نے گھرانے منتخب فرمائے تو مجھے اُن میں سے بہتر گھرانے میں رکھا، پس میں اُن میں سے بہترین فرد اور بہترین خاندان والا ہوں۔‘‘
( ترمذي، الجامع الصحيح، ابواب المناقب، باب في فضل النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ، 5 : 584، رقم : 3607)
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ان اﷲ اصطفي من ولد ابراھيم اسماعيل، واصطفي من ولد اسماعيل بني کنانۃ، واصطفي من بني کنانۃ قريشاً، واصطفي من قريش بني ھاشم، واصطفاني من بني ھاشم.
’’بے شک ربِ کائنات نے اِبراہیم (علیہ السلام) کی اَولاد میں سے اِسماعیل (علیہ السلام) کو منتخب فرمایا، اور اِسماعیل (علیہ السلام) کی اَولاد میں سے بنی کنانہ کو، اور اَولادِ کنانہ میں سے قریش کو، اور قریش میں سے بنی ہاشم کو، اور بنی ہاشم میں سے مجھے شرفِ اِنتخاب سے نوازا اور پسند فرمایا۔‘‘
( ترمذي، الجامع الصحيح، کتاب المناقب، باب في فضل النبي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ، 5 : 583، رقم : 3605)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا شجرہ مبارک:
محمدصلى اللہ عليہ وسلم تسلیما کثیرا
بن عبد اللہ (عام الفیل سے 25 سال پہلے پیداہوئے)
بن عبد المطلب (ان کانام شیبۃ الحمد تھا،وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب یہ پیدا ہوئے تو ان کے سر میں سفیدی تھی آپ کے چچا مطلب جب آپ کو مکہ میں لیکرآئے تو قریش کے لوگوں نے پوچھا:یہ کون ہیں؟آپ کے چچا نے جواب دیا”عبدی” یہیں سے آپ کو عبدالمطلب کہاجانے لگا۔جب آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی عمر مبارک آٹھ سال تھی تو ان کا وصال ہوا، ان کی اولاد میں(1) عباس بن عبدالمطلب ۔(2)حارث بن عبدالمطلب ۔(3)ابوطالب بن عبدالمطلب۔ (4)ابو لھب بن عبدالمطلب
بن ھاشم (ان کا نام عمرو العلا ہے ،ان کی ماں کانام عاتکہ بنت مرۃ بن ھلال بن فَالج بن ذکوان ہے)
بن عبد مناف (ان کام مغیرہ ہے،ان کی خوبصورتی کی وجہ سے انھیں “قمرالبطحا بھی کہاجاتاہے،ان کی والدہ کانام حبّی بنت حُلَیل بن حُبشِیَّہ بن سلول بن کعب بن خزاعہ ہے،ان کی اولاد میں (1)مطلب بن عبد مناف،یہ امام شافعی اسی سلسلے سے ہیں۔(2)نوفل بن عبد مناف۔(3)عبد شمس بن عبد مناف،ان سے بنو امیہ ہیں)
بن قصي (ان کا نام زی ہے اور ان کی والدہ کانام عاتکہ بنت ھلال ہے،ان کی اولاد میں(1) عبدالعزی بن قصی،یہ حضرت خدیجہ کے ددیال ہیں۔(2)عبدالدار بن قصی)
بن كلاب (ان کا نام حکیم ہے،ان کی والدہ کانام ھند بنت سُرَیر بن ثعلبہ ہے اور ان کے دوبیٹے ہیں قصی اور زہرہ)
بن مُرہ (ان کی کنیت ابو یقظہ ہے اور ان کی ماں کا نام مَخشِیّہ بنت شَیبان بن مُحارب بن فِھرہے)
بن كعب (ان کی والدہ کانام ماوِیۃ بنت کعب بن القَین القضاعیہ ہے ان کے تین بیٹے ہیں،مُرّہ،ھُصَیص اور عَدِّی)
بن لؤي (ان کی کنیت ابو کعب ہے،ان کے سات بیٹے ہیں،کعب،عامر،سامہ،خزیمہ،سعد،حارث اور عوف۔ ان کی والدہ کانام عاتکہ بنت یخلد ہے اور یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کی والدہ کانام سلمی بنت الحارث ہے)
بن غالب (ان کی والدہ کانام لیلی بنت الحارث بن تمیم بن ھُذَیل بن مُدرکہ ہے،لؤی اور تَیم ان کے بیٹے ہیں)
بن فِھر (ان کی والدہ کانام جَندلہ بنت عامر بن الحارث ہے)
بن مالك (ان کی کنیت ابوالحارث ہے اور ان کی والدہ کانام عاتکہ ہے)
بن النضر (ان کانام قیس یے، ان کی والدہ کانام عاتکہ بنت عدوان بن قیس بن عمرو ہے)
بن كنانۃ (ان کی والدہ کانام عوانہ بنت سعد بن قیس بن عَیلان بن مُضر ہے اور ان کے بیٹوں کے نام مِلکان،النضر، عمر اور عامر ہیں)
بن خزيمۃ (ان کی کنیت ابو اسد ہے،ان کی والدہ کانام سلمی بنت اسلم بن الحاف بن قُضاعہ ہے)
بن مدركۃ (ان کانام عمرو اور کنیت ابو ھذیل ہے،یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کی کنیت ابو خزیمہ ہے)
بن الياس (ان کی والدہ کانام رباب بنت حَیدہ بن معد بن عدنان ہے اور یہ بھی کہاجاتا ہے کہ ان کی والدہ کانام حَنفَاء بنت اِیاد ہے)
بن مضر (ان کانام عمرو اور کنیت ابوالیاس ہے، اور ان کی والدہ کانام سودہ بنت عک بن عدنان ہے)
بن نزار (ان کی کنیت ابواِیاد ہے،یاابو ربیعہ ہے، اور ان کی والدہ کانام مُعانہ بنت جَوشم ہے)
بن معد (ان کی کنیت ابو قضاعہ ہے،یاکہاجاتا ہے کہ ابو نزار ہے،ان کی والدہ کانام مَھدَد بنت اللَّھم بن حجب بن جدیس ہے)
بن عدنان (ان کی کنیت ابو معدّہے اور ان کی والدہ کانام بلھاء بنت یعرب بن قحطان ہے)
اس سے آگے کا نسب مختلف فیہ ہے

بن اُد (ان کی والدہ کانام النعجاء بنت عمرو بن تُبَّع ہے،ابن ہشام نے کہاکہ اُد ہی اُدد ہے،ابن ہشام کے مطابق شجرہ اس طرح ہے،یعنی اُد بن مقوم بن ناحور بن تَيرح بن يعرُب بن يشجب بن نابت بن اسماعيل ہے)
بن اُدَد ( ان کی والدہ کانام حَیَّہ القحطانیہ ہے)
بن الیسع
بن الھمَیسع (ان کی والدہ کانام حارثہ بنت مرداس بن زُرعہ ذی رُعَین الحمیری ہے)
بن سلامان
بن نبت (ان کی والدہ کانام ہامہ بنت زید بن کَھلَان بن سباء بن یَشجُب بن یَعرُب بن قحطان ہے
بن حَمل
بن قیذار ( ان کی والدہ کانام ہالہ بنت الحارث بنت مِضاض الجُرھمی ہے)
بن اسماعيل علیہ السلام (آپ ذبیح اللہ ہیں ،آپ کی والدہ کانام حضرت ھاجرہ ہے)
بن ابراھيم خليل اللہ عليھم الصلاۃ والسلام ( آپ ابو الانبیاء ہیں، آپ کی والدہ کانام نونار ہے، یہ بھیکہاجاتاہے کہ آپ کی وادہ کانام لیوثی ہے)
بن تارَح (آپ کی والدہ کانام سلمی ہے)
بن ناحُور
بن ساروغ (ان کانام شاروخ بھی بتایا گیا ہے)
بن اَرغُو
بن قانِغ(ان کانام فالغ بھی بتایاگیاہے،قیس اور یمن کے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ ھود علیہ السلام ہیں)
بن عابر (ان کانام عَیبَر بھی بتایاگیا ہے،یہ پورے یمن کے جد امجد ہیں،ان کی طرف منسوب والے قبائل میں الازد،خَثعم، بَجِیلہ،ہمدان، اَلھان، اشعر، طَیّی، مَذحِج، خولان، مَعَافر،عَامِلہ،جُذام، لحم، کِندہ اور حِمیَر شامل ہیں)
بن شالخ (امام سہیلی نے کہاکہ اس کا معنی رسول یا وکیل ہوتا ہے)
بن اَرفَخشذبن سام
بن نوح علیہ السلام (امام نووی نے کہا کہ یہ عجمی نام ہے، اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ عربی ہے اور نَاحَ یَنوحُ نَوحاٍ ونیاحۃ سے ماخوذ ہے)
بن لمک (ان کانام لامک بھی بتایاگیا ہے، اس کا معنی ہے متواضع)
بن مُتُّوشلخ
بن اَخنُوخ (ان کانام خنوخ بھی بتایاگیا ہے)
بن یارد (ان کانام یارد بھی بتایا گیا ہے)
بن مَھلَاییل
بن قَینَان (ان کانام قینن بھی بتایا گیا ہے)
بن اَنُوش ( ان کو یانش بھی کہاگہاہے)
بن شیث علیہ السلام
بن آدم صفی اللہ (ابوالبشر اور زمین میں خدا تعالیٰ کے خلیفے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں